نئی دہلی : دہلی کے جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے آج احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پولیس نے اس مظاہرے کی اجازت نہیں دی ہے۔ انتظامیہ کی سختی کے درمیان سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے صبح سویرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ زندگی گزارنے کے دو ہی طریقے ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ ہو رہا ہے، اسے ہونے دیا جائے اور برداشت کرتے رہا جائے، یا پھر اسے بدلنے کی ذمہ داری اٹھائی جائے۔احتجاج سے قبل قومی دارالحکومت دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کئی علاقوں میں پولیس و نیم فوجی دستوں کی بھاری تعیناتی کی گئی ہے۔ ’جنتر منتر 2.0‘ احتجاج سے پہلے دہلی کو سکیورٹی کے حصار میں لے لیا گیا ہے۔ جن پتھ کے قریب سے کچھ مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔سی جے پی نے واضح کیا ہے کہ وہ گیانیش کمار کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھے گی اور ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔
سی جے پی کے بانی رکن سورَو داس نے ایکس پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسی صورت حال کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک ٹرینیں، پروازیں یا بسیں روکی جائیں گی؟انہوں نے کہا کہ حکومت نے نہ صرف پوری دہلی کو جنتر منتر بنا دیا ہے بلکہ پورے بھارت کو بھی اسی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔ مظاہرین صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کی بات سنی جائے اور ان کے مطالبات پر توجہ دی جائے۔
سورَو داس نے جس پوسٹ کو شیئر کیا، اس میں الہ آباد کے نوجوانوں کی تحریک کا ذکر کیا گیا ہے۔ پوسٹ کے مطابق، ٹرینیں منسوخ کیے جانے کے خلاف نوجوان سڑکوں پر اتر کر احتجاج کر رہے ہیں اور اعلان کر رہے ہیں کہ جو لوگ دہلی کے جنتر منتر نہیں پہنچ سکے، وہ اگلی صبح الہ آباد چوراہے پر پہنچ کر اپنی حمایت کا اظہار کریں۔سی جے پی کے رہنما پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ جنتر منتر پہنچنے کے دوران پولیس انہیں جہاں بھی روکنے کی کوشش کرے گی، وہیں احتجاج شروع کر دیا جائے گا۔پارٹی نے آج ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا، ’’جنتر منتر 2.0 شروع ہو چکا ہے۔ گیانیش کمار، ووٹوں کی چوری کو سہولت فراہم کرنے کا آپ کا وقت ختم ہو چکا ہے۔‘‘
نئی دہلی : دہلی کے جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے آج احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پولیس نے اس مظاہرے کی اجازت نہیں دی ہے۔ ا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments