امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا ہے، تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اسے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے لیے ’تحفہ‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق پوتن نے فوری طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل امریکی اور عالمی منڈیوں میں فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے بعد نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور پھر مزید دس لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر مزید کہا کہ مختصر مدت میں روس سے مزید 30 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ اس کا انحصار روس کی ریفائنریوں کی صورتِ حال پر ہوگا، جنھیں یوکرین کے حملوں کا سامنا رہا ہے۔
اس معاہدے کے تحت امریکی محکمہ خزانہ روسی ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندیاں سات اپریل تک معطل کر رہا ہے، تاہم امریکہ کے بینکوں میں موجود روسی اثاثے بدستور منجمد رہیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ اس معاہدے کے بدلے امریکہ روس کو کیا دے گا۔
زیلنسکی نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’ایسی جنگ میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے جسے طول دینے کے بجائے ختم ہونا چاہیے۔‘
دوسری جانب پوتن نے کہا کہ روس امریکہ اور عالمی منڈیوں کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم انھوں نے فراہم کی جانے والی مقدار کی وضاحت نہیں کی۔ روس نے رواں سال کے آغاز میں ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کی تھی۔
ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا روس اتنی بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کر سکتا ہے اور اس سے امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں کتنی کمی آئے گی۔
سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کے ماہر ٹم آرمٹیج کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے بتائی گئی پہلی کھیپ تقریباً 22 لاکھ 50 ہزار بیرل کے برابر ہے، جبکہ امریکہ میں روزانہ ڈیزل کی کھپت تقریباً 38 لاکھ بیرل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے امریکی پمپوں پر ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی نمایاں فرق پڑنے کا امکان نہیں۔ انھوں نے اسے وسط مدتی انتخابات سے قبل مہنگائی کم کرنے کے لیے ٹرمپ کی ایک قدرے مایوس کن کوشش بھی قرار دیا۔
برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ یوکرین کی حمایت اور دیرپا امن کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھے گی۔ برطانیہ روس پر پابندیوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھنے اور منصفانہ و دیرپا امن کی کوششوں کی حمایت کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔
فروری میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے باعث حالیہ مہینوں میں امریکہ میں پیٹرول اور خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے صارفین پر مالی دباؤ بڑھا اور مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہوا۔
امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق، امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت اس وقت 6.28 ڈالر فی گیلن ہے، جو ستمبر کے اختتام پر ریکارڈ کی گئی 6.53 ڈالر فی گیلن کی بلند ترین سطح سے کم ہے۔
ٹرمپ کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد امریکی محکمہ خزانہ نے روسی ڈیزل کی درآمد کی اجازت دینے کے لیے باضابطہ طور پر عارضی لائسنس جاری کر دیا۔ پیوٹن نے بھی تصدیق کی کہ جمعے کو ان کی ٹرمپ سے عالمی توانائی کی صورتِ حال پر بات ہوئی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا ہے، تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اسے روسی صدر ولادی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments