وہ دوپہر تقریباً 2:30 بجے باورچی خانے میں گر پڑے جس سے ان کے سر پر شدید چوٹ آئی۔ اس وقت ان کی اہلیہ اور دونوں بیٹے بھی گھر پر موجود تھے، لیکن ابتدائی طور پر کسی کو اندازہ نہیں ہو سکا کہ کیا ہوا ہے۔ اس واقعے کے پسِ منظر کے حالات ابھی تک واضح نہیں ہو سکے ہیں۔
سنجے گپتا کی موت ان کے کئی دہائیوں پر محیط فلمی کیریئر کا اختتام ہے۔ وہ خاص طور پر اداکار سنجے دت کے ساتھ اپنی فلمی شراکت داری کے لیے جانے جاتے تھے، جن کے ساتھ انہوں نے 'کانٹے' (2002)، 'مسافر' (2004)، 'زندا' (2006) اور 'شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا' (2007) جیسی فلموں میں کام کیا۔
'شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا' 1991 کے لوکھنڈوالا کمپلیکس فائرنگ کے واقعہ پر مبنی تھی، جس میں گپتا نے بطور ہدایت کار، پروڈیوسر اور شریک مصنف خدمات انجام دیں۔ بعد میں وہ 'شوٹ آؤٹ ایٹ وڈالا' (2013) کے ساتھ دوبارہ کرائم کیٹیگری کی طرف لوٹے، جو کہ حقیقی زندگی کے واقعات سے متاثر ایک اور فلم تھی۔
کرائم ڈراما فلموں کے علاوہ، گپتا نے دیگر شعبوں میں بھی کام کیا جن میں ایشوریہ رائے بچن کی اداکاری سے سجی فلم 'جذبہ' (2015)، اور ہریتھک روشن و یامی گوتم کی فلم 'قابل' (2017) شامل ہیں۔ ان کے دیگر ہدایت کاری کے منصوبوں میں شارٹ فلموں کا مجموعہ 'دس کہانیاں' (2007)، 'ایسڈ فیکٹری' (2009) اور 'ممبئی ناگا' (2021) شامل ہیں، جس میں جان ابراہم اور عمران ہاشمی نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔
معروف فلم ساز سنجے گپتا، جنہوں نے 'کانٹے'، 'شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا' اور 'قابل' جیسی فلموں کی ہدایت کاری کی، 57 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ 'فلم انفارمیشن' کے مطابق انہوں نے 3...