اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے گھر بلڈوزر چلا کر تباہ کرنے کی مہم جمعہ کے روز بھی جاری رکھتے ہوئے مزید کئی فلسطینیوں کے گھروں کو منہدم کر دیا ہے، گھروں کو مسمار کرنے کی تازہ کارروائیوں کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ان گھروں کے رہائشیوں نے دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا تھا۔ فوجیوں کی ہلاکتیں ایک فوجی چیک پوائنٹ پر ہوئی تھیں۔
تفصیلات کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری پرانی مہم کے کھاتے میں اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے گھروں میں مسماری میں مصروف ہے۔ تازہ کارروائی میں فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کے بعد الخلیل شہر میں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 3000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
اسرائیلی فوج نے گھروں کی مسماری کی اس مہم کو اکتوبر 2023 سے تیز تر رکھا ہے۔ اس کا حکم وزیر اعظم نتن یاہو نے دیا تھا تاکہ اسرائیلی فوج کی مختلف مقامات اور راستوں پر لگائے گئے چیک پوائنٹس کے نزدیک سے فلسطینیوں کے گھروں کو دور کر دیا جائے اور اسرائیلی فوجی اپنے آپریشن مکمل آسانی سے جاری رکھ سکیں۔ نیز ان کارروائیوں کے خلاف فلسطینی شہری اسرائیلی فوج کے چیک پوائنٹس کے قرب و جوار میں کوئی احتجاج بھی نہ کر سکیں۔
فلسطینی حکام اسرائیلی نتن یاہو پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے ان مسماریوں کو اپنی حالیہ انتخابی مہم کے لیے خوب استعمال کیا ہے اور انتہا پسند یہودیوں کے ووٹ لینے میں کامیاب رہے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی حکام کا موقف ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کے قتل ہونے کا انتقام لیتے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنی یہ کارروائیاں جارحانہ انداز سے اور پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔ تاکہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہری فوجیوں پر حملے نہ کر سکیں۔ نیز یہودی آباد کار محفوظ رہیں۔
جن گھروں کو اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز تباہ کیا ہے ان کے بارے میں اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان گھروں کی ملکیت اور رہائش ان خاندانوں کی تھی جن کے لڑکوں نے اسرائیلی فوج کو ہلاک کیا ہے۔ اسرائیلی دو فوجیوں کی ہلاکت ہفتہ پہلے ہوئی تھی۔
اسرائیلی فوج اس کو بنیاد بنا کر اب تک کئی ماکانات، دکانیں اور کارخانے ہی تباہ نہیں کر رہی بلکہ اس علاقے کی سڑکیں بھی فوج نے اکھاڑ دی ہیں۔ یہ واقعات بڑی تعداد میں ہوئے ہیں اور ابھی جاری ہیں جیسا کہ فوجی بیان سے اندازہ ہوتا ہے۔
فوجیوں نے الخلیل شہر کے داخلی راستے بھی بند کر دیے ہیں۔ جس سے فلسطینیوں کی نقل و حرکت اور آمدورفت بھی بند ہو گئی ہے۔ حتیٰ کہ انتہائی بنیادی ضرورتوں اور ادویات یا علاج معالجے کے لیے بھی باہر نکلنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چیف وولکر ترک نے اسی ہفتے اس صورت حال پر تشویش ظاہر کی اور فلسطینیوں کو علاقے سے بے دخل کرنے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حد سے زیادہ فوجی طاقت استعمال کی جارہی ہے۔ اس طرح یہ نسلی تطہیر کی کوشش ہے، جس پر گہری تشویش ہے۔
یاد رہے نتن یاہو کی حکومت نے نئی یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع کے جس ایجنڈے کو تیزی سے آگے بڑھانے کے اقدامات کیے تھے یہ ان اقدامات کا ہی حصہ ہیں کہ علاقے سے فلسطینیوں کو بے دخل کر کے پورا علاقہ یہودیوں کے رہنے کے لیے صاف ہو جائے۔ یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع کو اقوام متحدہ بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتی ہے۔
کفر مالک کے علاقے میں مغربی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کے نمائندے نے ایسی دستاویزات دیکھی ہیں جو فلسطینیوں کو ان کے گھروں، زمین اور علاقے سے یہودی آباد کاروں کے ذریعے خالی کرانے سے متعلق ہیں۔ حتیٰ کہ زرعی زمینیں اور کھیت تک تباہ کر کے فلسطینیوں کو اس علاقے سے بھگائے جانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ زیتون کی فصل کی تباہی اور پھل اتارنے کی اجازت کا نہ ہونا بھی اسی وجہ سے ہے۔ یہ سب کارروائیاں یہودی آباد کار اسرائیلی فوج کی سرپرستی میں کرتے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے گھر بلڈوزر چلا کر تباہ کرنے کی مہم جمعہ کے روز بھی جاری رکھتے ہوئے مزید کئی فلسطینیوں کے گھروں کو منہدم کر دیا ہے، گھروں کو مسما...
Source: Admin