چنئی : اڑیسہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے قتل کے انتہائی سنگین معاملے میں تمل ناڈو پولیس نے اہم پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس نے ان افراد تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی ہے جن پر خاتون کو قتل کرکے اس کی لاش کے حصے ایک سوٹ کیس میں رکھ کر ٹرین کے ذریعے آگرہ بھیجنے کا شبہ ہے۔ پولیس نے گڈووانچیری کے مسجد اسٹریٹ علاقے میں واقع اس مکان کا بھی سراغ لگا لیا ہے جہاں مبینہ طور پر قتل کیا گیا تھا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 5 اگست کو اترپردیش کے آگرہ ریلوے اسٹیشن پر ایک لاوارث سوٹ کیس سے بدبو آنے کی اطلاع پر پولیس نے اسے کھولا۔ سوٹ کیس کے اندر انسانی جسم کے اعضا ملنے کے بعد آگرہ پولیس اور گورنمنٹ ریلوے پولیس نے تحقیقات شروع کیں۔ تحقیقات کے دوران پولیس کو شبہ ہوا کہ سوٹ کیس چنئی سے چلنے والی ٹرین میں رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد تفتیش کا دائرہ چنئی منتقل کیا گیا اور چنئی سینٹرل ریلوے اسٹیشن سمیت اطراف کے علاقوں کی 350 سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک مرد اور ایک خاتون کو سرخ رنگ کا سوٹ کیس لے کر چنئی سینٹرل اسٹیشن میں داخل ہوتے دیکھا گیا۔ پولیس کے مطابق دونوں نے سوٹ کیس کو آگرہ جانے والی ٹرین میں چھوڑا اور خود چنئی پارک ریلوے اسٹیشن سے گڈووانچیری جانے والی دوسری ٹرین میں سوار ہوگئے۔ بعد ازاں گڈووانچیری ریلوے اسٹیشن اور اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پولیس نے دونوں مشتبہ افراد کا راستہ تلاش کیا۔ فوٹیج میں انہیں اسی سوٹ کیس کے ساتھ ایک آٹو رکشا میں گڈووانچیری کے مسجد اسٹریٹ علاقے کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
پولیس نے آٹو رکشا کا تعاقب کرتے ہوئے اس مکان کا پتہ لگایا جہاں مشتبہ افراد ٹھہرے ہوئے تھے۔ مکان کی تلاشی کے دوران پولیس کو ایسے شواہد ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ قتل اسی مکان میں کیا گیا اور بعد میں شواہد مٹانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ مقتولہ کے جسم کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے بعض حصے سوٹ کیس میں رکھے گئے اور انہیں ٹرین کے ذریعے آگرہ بھیج دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مکان میں باقی شواہد اور جسم کے دیگر حصوں کو ختم کرنے کی بھی مبینہ کوشش کی گئی۔ تفتیش کاروں نے بتایا کہ خاتون کے سر کی تلاش بھی جاری ہے۔ پڑوسیوں کے مطابق اس مکان میں دو خواتین اور ایک مرد رہتے تھے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ مرد اور ایک خاتون نے دوسری خاتون، جس کی شناخت حیات نِشا کے طور پر کی گئی ہے، کو قتل کیا۔ بتایا گیا ہے کہ حیات نِشا اڑیسہ کی رہنے والی تھیں اور تامبرم کے قریب ایک ایکسپورٹ کمپنی میں ملازمت کرتی تھیں۔
مقتولہ کے بیٹے سے بھی پولیس پوچھ گچھ کررہی ہے تاکہ اس کی والدہ کی سرگرمیوں، رابطوں اور ان افراد کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوسکیں جو اس کے ساتھ رابطے میں تھے۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کررہی ہے۔ تفتیش کا ایک اہم رخ یہ بھی ہے کہ آیا مقتولہ اور مشتبہ افراد کے درمیان پہلے سے کوئی تعلق تھا یا قتل کے پیچھے زیورات اور نقد رقم حاصل کرنے کا مقصد کارفرما تھا۔
پولیس نے مشتبہ افراد کے خلاف شواہد جمع کرنے اور معاملے میں مزید لوگوں کے ممکنہ کردار کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات تیز کردی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تصویر تفتیش آگے بڑھنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments