نئی دہلی: ہندستان نے جمعہ کو بحیرۂ اسود میں تجارتی جہاز ایم وی اومورفی پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کی ہے، جس میں ایک بھارتی شہری ہلاک ہوگیا۔ وزارت خارجہ نے تجارتی جہازوں پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں سے سمندری آمد و رفت اور بین الاقوامی تجارت کی حفاظت یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ یہ حملہ 18 جولائی کو اس وقت ہوا جب ایم وی اومورفی بحیرۂ اسود سے گزر رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق یہ جہاز روسی سمندری حدود میں تھا۔ حملے کے وقت جہاز پر 10 افراد پر مشتمل عملہ موجود تھا، جن میں تین بھارتی شہری بھی شامل تھے۔ وزارت خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ دستیاب اطلاعات کے مطابق حملے میں ایک بھارتی شہری کی المناک موت ہوگئی، جبکہ جہاز پر سوار دیگر دو بھارتی شہری محفوظ ہیں۔ وزارت نے ہلاک ہونے والے بھارتی شہری کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ ہندوستان تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے اور بے قصور شہری عملے کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے ایسے حملوں کی واضح طور پر مذمت کرتا ہے۔ وزارت نے کہا کہ یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ سمندری راستوں سے آمد و رفت کی آزادی اور بین الاقوامی تجارت کو مسلسل بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ ہندوستان نے تمام متعلقہ فریقوں سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرتے ہوئے سمندری آمد و رفت کی سلامتی اور عالمی تجارت کے بلاتعطل بہاؤ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ یہ حملہ 19 جولائی کو یوکرین کی بندرگاہ اوڈیسا سے روانہ ہونے والے گنی بساؤ کے پرچم بردار کارگو جہاز ایم وی گولڈن لیو پر ہونے والے حملے کے ایک دن بعد ہوا ہے۔ اس جہاز پر 17 رکنی عملہ سوار تھا، جن میں پانچ بھارتی شہری شامل تھے۔ حملے میں چار بھارتی شہری ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوگیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھی وزارت خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر جنگجو شہری عملے اور تجارتی جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ہندوستانی مشن نے متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ مسلسل دو حملوں کے بعد بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ خطے میں بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث شہری بحری راستوں اور عالمی تجارتی روٹس کو بھی خطرات کا سامنا ہے۔
Source: Admin
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
9 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments