Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

Kolkata

کولکتہ صحافی حملہ کیس: شوپندو ادھیکاری کا ایس ایس کے ایم  ہسپتال کا دورہ، حملہ آوروں کو سخت سبق سکھانے کا اعلان

کولکتہ صحافی حملہ کیس: شوپندو ادھیکاری کا ایس ایس کے ایم ہسپتال کا دورہ، حملہ آوروں کو سخت سبق سکھانے کا اعلان

کلکتہ:نیٹ اسکینڈل کے خلاف اور 'کاکروچ جنتا پارٹی' ( سی جے پی ) کی حمایت میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کا احتجاجی مارچ شدید بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔ دھرم تلہ میں دھرنے کے دوران مظاہرین کے ایک طبقے اور ہجوم میں شامل بیرونی عناصر نے نہ صرف پولیس پر جوتے اور بوتلیں پھینکیں، بلکہ خبروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹس پر بھی بدترین تشدد کیا۔ اس حملے میں شدید زخمی ہونے والے چار صحافی فی الحال ایس ایس کے ایم ہسپتال کے ٹراما کیئر سینٹر میں زیرِ علاج ہیں۔ جمعہ کی رات تقریباً وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری ہسپتال پہنچے اور ڈاکٹروں سے آدھے گھنٹے تک زخمیوں کی صحت اور علاج کا حال پوچھا۔ ہسپتال سے باہر آ کر انہوں نے حملے کے ذمہ داروں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ"کچھ دن انتظار کریں، مجھے معلوم ہے کہ ان کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ میں ان شرپسندوں کو سچائی دکھاو¿ں گا۔" شو بھندوو ادھیکاری کے بعد باغی ترنمول کانگریس کے رہنما ریتابرتا بنرجی نے بھی ہسپتال جا کر زخمیوں کی عیادت کی۔ انہوں نے صحافیوں پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ"یہ کسی صورت طلبہ کی تحریک نہیں ہے۔ دوسری جانب 'کاکروچ جنتا پارٹی' کی اس تحریک سے وابستہ ایک نمائندے نے الزام لگایا کہ پرامن جلوس میں کچھ 'غدار اور بدعنوان عناصر' گھس آئے تھے جنہوں نے پولیس اور میڈیا پر حملہ کیا۔ تحریک کے اہم منتظم ددیپیا گنگوپادھیائے نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ"اگر کوئی بدامنی یا جھگڑا چاہتا ہے تو اسے ہمارے احتجاج میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں یہ غنڈہ گردی اور تشدد ہرگز نہیں چاہیے۔ ہم اپنے مطالبات کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔" پولیس ذرائع کے مطابق میڈیا اور پولیس پر حملہ کرنے والے شرپسندوں کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف جلد سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in Kolkata

کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ

کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ

10 months ago

کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ

کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ

10 months ago
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟

اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟

10 months ago

اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟

اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟

10 months ago
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت

رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت

10 months ago

رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت

رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت

10 months ago
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب

کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب

10 months ago

کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب

کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب

10 months ago
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟

سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟

10 months ago

سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟

سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟

10 months ago
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں

موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں

10 months ago

موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں

موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں

10 months ago

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments