Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

’وہ سب پاگل ہیں‘، ادب کا نوبیل انعام ملنے کی خبر پر کینیڈین شاعرہ این کارسن کا ردِعمل کیا تھا؟

Admin
By Admin
Oct 08, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

’وہ سب پاگل ہیں‘، ادب کا نوبیل انعام ملنے کی خبر پر کینیڈین شاعرہ این کارسن کا ردِعمل کیا تھا؟
’وہ سب پاگل ہیں‘، ادب کا نوبیل انعام ملنے کی خبر پر کینیڈین شاعرہ این کارسن کا ردِعمل کیا تھا؟ — October 08, 2026
یونانی اساطیر، قدیم کہانیوں اور جدید عہد کے انسانی احساسات کو انوکھے اور دلیرانہ انداز میں یکجا کرنے والی کینیڈین شاعرہ، مضمون نگار اور مترجم این کارسن کو سال 2026 کا ادب کا نوبیل انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سویڈش اکیڈمی کی جانب سے جمعرات کو اس معتبر ترین ادبی اعزاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ 76 سالہ این کارسن کو یہ انعام ان کے ’دلیرانہ، اختراعی اور تخلیقی کام کے لیے دیا گیا ہے جس نے کلاسیکی روایت کے ساتھ شگفتہ اور دلچسپ گفتگو کے ذریعے جدید ادب کی نئی شکلوں کو جنم دیا ہے۔‘
نوبیل انعام کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا جب این کارسن آئس لینڈ کے ایک دور افتادہ اور پرفضا علاقے میں موجود تھیں۔
جب آئس لینڈ کے قومی نشریاتی ادارے ’آر یو وی‘ نے ان سے اکیڈمی کے فیصلے پر ردِعمل مانگا تو انہوں نے اپنے مخصوص بے ساختہ اور طنز آمیز اسلوب میں مسکراتے ہوئے کہا ’وہ سب ارکان پاگل ہیں۔‘
سویڈش اکیڈمی کی مستقل سیکریٹری انگرڈ کارلبرگ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے کارسن کو فون پر اس کامیابی کی اطلاع دی۔
انگرڈ کالبرگ کے مطابق ’ان کے پاس مجھے بتانے کے لیے صرف اتنا ہی وقت تھا کہ وہ اس وقت آئس لینڈ میں ہیں اور بس خاموشی سے ہوا کا شور سن رہی ہیں۔‘
سڑک کنارے تیز ہوا کے تھپیڑوں سے اپنی ٹوپی کو تھامے ہوئے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نوبیل انعام ان کے قارئین کی زندگی یا ان کی کتابوں کو بدل دے گا؟ تو انہوں نے نہایت سادہ لہجے میں کہا ’بس اب میری کتابوں کے ٹائٹل کور پر ایک نوبیل انعام کا سٹیکر لگ جائے گا۔‘
این کارسن کا شمار دنیا کے ان چند تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے قدیم تاریخ اور جدید دنیا کے درمیانی فاصلوں کو اپنے قلم سے مٹا دیا ہے۔
وہ خود قدیم زبانوں، تاریخ، ادبیات اور عمرانیات کی پروفیسر رہی ہیں۔ سنہ 2001 میں امریکہ کے مشہور اخبار نیویارک ٹائمز نے انہیں ’ادبی دنیا کی ایک عظیم امتزاج نگار قرار دیا تھا کیونکہ وہ نظم، نثر، ڈرامے اور ترجمے کو ایک ہی جگہ پر اس خوبصورتی سے پرو دیتی ہیں کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔
ان کا سب سے مشہور منظوم ناول ‘آٹو بائیو گرافی آف ریڈ‘ 1998میں شائع ہوا تھا۔ یہ کتاب بنیادی طور پر قدیم یونانی دیومالائی داستان کے دو کرداروں (جیریون اور ہرکولیس) پر مبنی تھی لیکن کارسن نے اسے ایک جدید دور کے تین افراد کی محبت کی کہانی کے روپ میں ڈھال دیا۔
سویڈش اکیڈمی نے اس کتاب کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’غنائیت سے بھرپور رزمیہ شاعری کا ایک شاندار شاہکار‘ قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ ان کی 2010 کی تخلیق ’نواکس‘ کو بھی اکیڈمی نے بالخصوص سراہا۔
یہ نظم ایک کتابی صفحات کے بجائے ایک طویل اور مسلسل جڑے ہوئے کاغذ کے ٹکڑے پر آکارڈین کی شکل میں چھاپی گئی تھی جو انہوں نے اپنے مرحوم بھائی کی یاد میں لکھی تھی۔
اکیڈمی کے مطابق یہ ایک ایسا مجسماتی اور ادبی شاہکار ہے جس میں بھائی کو کھونے کا گہرا غم اور تڑپ ہر لفظ سے جھلکتی ہے۔

یونانی اساطیر، قدیم کہانیوں اور جدید عہد کے انسانی احساسات کو انوکھے اور دلیرانہ انداز میں یکجا کرنے والی کینیڈین شاعرہ، مضمون نگار اور مترجم این کارسن کو سال 2026 کا ادب کا نوبیل ...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn