Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

اسرائیلی وزیر کا ایک اور متنازع اقدام... عوام کے لیے کھلے پھانسی گھاٹ کا معائنہ

اسرائیلی وزیر کا ایک اور متنازع اقدام... عوام کے لیے کھلے پھانسی گھاٹ کا معائنہ

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گوئیر نے اسرائیل کے وسطی علاقے میں پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کے لیے قائم کیے جانے والے ایک مقام کا معائنہ کیا۔ اس سے قبل انتہا پسند وزیر یہ بیان دے چکے ہیں کہ غزہ میں روزانہ درجنوں فلسطینیوں کو قتل کیا جانا چاہیے۔ اس بیان کے نتیجے میں عالمی سطح پر مذمت سامنے آئی۔

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی ایک وڈیو میں انتہا پسند وزیر کو اس مقام کا معائنہ کرتے ہوئے دکھایا گیا، جہاں سزائے موت پانے والوں کے لیے ایک خصوصی حصہ بنایا جائے گا۔ اس کے وسط میں پھانسی گھاٹ ہو گا، جبکہ دیکھنے کے لیے بھی مخصوص جگہیں ہوں گی۔ یہاں مقتولین کے اہل خانہ پھانسی کے عمل میں شریک ہو سکیں گے۔ بن گوئیر نے کہا کہ یہ طریقہ امریکا سمیت دیگر ممالک میں بھی رائج ہے۔

انہوں نے مزید کہا ’دہشت گرد صرف ایک چیز کے مستحق ہیں، وہ ہے پھانسی کے ذریعے موت‘۔

واضح رہے کہ بن گوئیر غزہ کی پٹی میں عام فلسطینی شہریوں کو بھی دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ’میں نے جیلوں میں دہشت گردوں کی حراست کی شرائط سخت کرنے کا وعدہ کیا تھا اور یہ وعدہ مکمل طور پر پورا کیا گیا۔ میں نے سزائے موت کا قانون منظور کرانے کا وعدہ کیا تھا اور وہ بھی پورا ہوگیا۔ میں نے پھانسی گھاٹ قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور یہ منصوبہ بھی مکمل کر دیا گیا ہے۔‘
یاد رہے کہ اسرائیلی پارلیمان نے مارچ میں ایک قانون منظور کیا تھا، جس میں دہشت گردی سے متعلق قتل کے جرائم کے لیے پھانسی کے ذریعے سزائے موت مقرر کی گئی۔ یہ قانون صرف فلسطینیوں پر لاگو ہو گا، کیونکہ اس پر عمل درآمد فوجی عدالتوں کے ذریعے ہو گا، جو اسرائیلی شہریوں کے خلاف مقدمات نہیں چلاتیں۔

قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس نظام کو ’دو مختلف معیار کے انصاف‘ سے تعبیر کیا ہے، جبکہ یہ قانون اب بھی اسرائیلی سپریم کورٹ میں چیلنج ہے۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ یہ قانون حقِ زندگی، انسانی وقار، مساوات اور منصفانہ قانونی کارروائی کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ بن گوئیر کی جانب سے سامنے آنے والے متنازع بیانات کا تازہ ترین واقعہ ہے۔ گذشتہ ہفتے انہوں نے غزہ میں ’ہر رات 30 سے 40 افراد کو ہدف بنا کر قتل کرنے‘ کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ یہ کارروائی صرف ان لوگوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے جو براہِ راست خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا تھا ’وہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جو زندگی کے مستحق نہیں، انہیں زندہ نہیں رہنا چاہیے۔ وہ سرے سے انسان ہی نہیں ہیں۔‘ اس بیان پر عرب اور عالمی سطح پر شدید مذمت سامنے آئی تھی۔

اس سے قبل بھی بن گوئیر نے 2023 میں 7 اکتوبر کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران غزہ کی پٹی پر ایٹمی حملہ کرنے اور اس کے باشندوں کو پانی اور خوراک سے محروم کرنے کی اپیل کی تھی۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

{{ currentVoteCount }} Responses
{{ voteMessage }}
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn