International

ہزاروں مسلمانوں کی جمعہ کے لیے مسجد اقصیٰ پہنچنے کی کوشش، اسرائیلی ناکوں پر لمبی قطاریں

ہزاروں مسلمانوں کی جمعہ کے لیے مسجد اقصیٰ پہنچنے کی کوشش، اسرائیلی ناکوں پر لمبی قطاریں

رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کے روز دسیوں ہزار مسلمان مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سے مسجد اقصیٰ پہنچنے کے لیے سڑکوں اور گلیوں میں نکل آئے۔ تاکہ مقدس مہینے میں پہلا جمعہ مسجد اقصیٰ میں پڑھ سکیں۔ یہ رش اس کے باوجود جمعہ کے روز مغربی کنارے کی سڑکوں پر دیکھنے کو ملا کہ اسرائیلی سیکیورٹی حکام نے مسلمانوں کے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی تعداد کو انتہائی محدود کر کے صرف 10 ہزار مقرر کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران 10000 مسلمان ہی مسجد جا سکیں گے۔ اس دوران اسرائیلی حکام نے یہ پابندی بھی عائد کی ہے کہ مسجد اقصیٰ میں صرف 55 سال سے زائد عمر کے بزرگ مردوں اور 50 سال سے زائد خواتین کو جانے کی اجازت ہوگی۔ باقی عمروں کے لوگ مسجد اقصیٰ میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔ علاوہ ازیں اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کے سینیئر امام پر بھی مسجد اقصیٰ میں رمضان المبارک کے پہلے ہفتے کے دوران جانے پر پابندی لگا دی ہے۔ انہیں اس سے پہلے بھی ایک سال تک اس پابندی کا سامنا رہا اور انہیں مسجد اقصیٰ نہ جانے دیا گیا۔ تاہم ایک ماہ قبل ان پر عائد یہ پابندی ختم ہوگئی۔ لیکن اب دوبارہ سے 18 فروری سے ان کے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے پر ایک ہفتے کے لیے عارضی پابندی لگائی گئی ہے۔ جسے بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے لگائی گئی ان پابندیوں کے باوجود جمعہ کے روز جگہ جگہ مسلمانوں کی بڑی تعداد کے جمگھٹے نظر آئے جو ادائیگی نماز کے لیے رواں دواں تھے۔ غزہ میں جنگ بندی کے بعد اتنی بڑی تعداد میں پہلی مرتبہ لوگ مسجد اقصیٰ کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں قائم اسرائیلی فوجی چیک پوسٹوں پر بھی لمبی قطاریں نظر آتی رہیں۔ اسی طرح مشرقی یروشلم میں بھی مسلمانوں کی بڑی تعداد مسجد اقصیٰ کی طرف جانے کی کوشش میں رہی۔ خیال رہے مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے لیکن اس کا عملی کنٹرول مسلمانوں کے پاس اسرائیلی قبضے کی وجہ سے نہیں رہ سکا ہے۔ اسلام میں مسجد اقصیٰ کی حرمین شریفین کے بعد سب سے زیادہ اہمیت ہے اور مسلمانوں کا یہ تیسرا مقدس مرکز ہے۔ اسرائیلی پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی 3000 نفری مشرقی یروشلم میں جمعہ کے سلسلے میں تعینات کی گئی تھی۔ تاکہ مسلمانوں کے مسجد اقصیٰ کی طرف جانے کو اسرائیلی پابندیوں کے مطابق دیکھا جا سکے اور ان کی چیکنگ کی جا سکے۔ یروشلم اسلامی وقف کے مطابق مسجد اقصیٰ میں عام طور پر 80 ہزار کے قریب مسلمان جمعہ کے دن نماز ادا کرتے ہیں جبکہ رمضان المبارک کے دوران جمعہ کی ادائیگی کے لیے یہ تعداد 2 لاکھ تک پہنچ جاتی ہے اور مسجد اقصیٰ اور اس کے اطراف میں ہر طرف دین اسلام کے ماننے والوں کے جم غفیر نظر آتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ جاتے ہوئے رکاوٹوں کا شکار ہونے والے مصطفیٰ نامی فلسطینی نے کہا ہم پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اگر یہ پابندیاں نہ ہوں تو اس سے بھی زیادہ مسلمان آپ کو یہاں نظر آتے۔ غزہ میں جہاں ہر طرف تباہی کے باعث ملبے کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ عمومی دنوں میں رمضان کی آمد پر خوشی ایک استقبالیہ جشن کی صورت نظر آتی ہے۔ لیکن پچھلے دو برسوں کے دوران غزہ میں استقبالی جشن کا ماحول ماند پڑا ہوا ہے اور جنگ زدہ بے گھر فلسطینیوں کے ہاں اپنے پیاروں کی یادیں انہیں بار بار سوگ کی کیفیت میں مبتلا کرتی ہیں۔ اس کے باوجود کئی جگہوں پر فلسطینی شہریوں نے اپنی رمضان کی آمد پر خوشیاں منانے کی روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ غزہ کے رمیز نامی شہری بھی اپنے ساتھ کئی دوسرے فلسطینیوں کو لیے ہوئے جمعہ کی ادائیگی کے لیے ایک سکول کے صحن میں موجود تھے۔ کیونکہ غزہ کی سینکڑوں مساجد کو اسرائیلی فوج نے بمابری کر کے شہید کر دیا ہے۔ 180 مساجد جزوی طور پر مسمار کی گئیں جبکہ 600 سے زائد مساجد کو مکمل طور پر شہید کیا جا چکا ہے۔ غزہ سے تعلق رکھنے والے رمیز نامی ایک فلسطینی نے مسجد اقصی میں داخلے پر اسرائیلی قدغنوں کے بارے میں کہا اج سے پہلے یہاں مساجد موجود تھیں جن میں قیام و سجود کے لیے ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمان جمع ہوتے تھے۔ مگر آج ہر طرفہ ملبے کے ڈھیر ہیں کچھ لوگ ایک تباہ کردیے گئے سکول کے ملبے سے ملے صحن میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ کیونکہ اسرائیلی فوج نے تو ساری مساجد کو کھنڈر بنانے کے لیے بار بار بمباری کی ہے۔ جیسا کہ جمعرات کی شام بے شمار خاندانوں نے افطاری کا ہتمام اپنے منہدم کر دیے گئے گھروں کےملبے ہر روزہ افطار کیا ہے۔ یاد رہے اسرائیکی فوج اب تک غزہ میں 72000 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے ۔ جن میں زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments