امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ اب ٹیرف کے لیے دیگر قوانین کا سہارا لیا جائے گا اور یوں رواں سال کے دوران ٹیرف کم و بیش یہی رہیں گے جو اس وقت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ٹیرف کے لیے سیکشن 232 اور سیکشن 301 کا سہارا لیا جائے گا جنھیں عدالتوں میں کئی مرتبہ چیلنج کیا گیا مگر عدالتوں نے انھیں درست قرار دیا ہے۔ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی عدالت کا فیصلہ بہت مایوس کن ہے۔ خیال رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر پچھلے سال لگائے گئے صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف غیر قانونی قرار دے دیے۔ 3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت نے فیصلہ سنایا، جسے چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریر کیا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ