کل یعنی 21 جنوری کو، یورپی پارلیمنٹ نے امریکہ کے ساتھ یورپی یونین کے تجارتی معاہدے کو معطل کر دیا۔ اس فیصلے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین نے جولائی 2025 میں اس تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا تھا لیکن یورپی پارلیمنٹ نے یہ قدم صدر ٹرمپ کے گرین لینڈ کے حصول کے مطالبے اور اس منصوبے کی مخالفت کرنے والے یورپی اتحادیوں پر محصولات عائد کرنے کی دھمکیوں کے جواب میں اٹھایا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے رکن اور یورپی یونین-امریکہ تجارتی تعلقات پر آئی این ٹی اےکمیٹی کے چیئرمین برنڈ لینج نے کل یعنی21 جنوری کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا یورپی ممالک پر 10 سے 25 فیصد تک ٹیرف لگانے کا منصوبہ اس تجارتی معاہدے کی شرائط کے خلاف ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے برنڈ لینج نے کہا کہ "میرے خیال میں انہوں نے اپنا موقف تبدیل نہیں کیا ہے۔ وہ جلد سے جلد گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔" ڈاووس میں اپنی تقریر میں امریکی صدر نے آرکٹک کے علاقے میں واقع علاقے گرین لینڈ کے الحاق کے حوالے سے فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا۔ تاہم ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں فوجی طاقت کے استعمال کو مسترد کر دیا۔ لینج نے اس عزم کو ایک چھوٹا سا مثبت قرار دیا، لیکن مزید کہا کہ 10 سے 25 فیصد ٹیرف کی تجویز اب بھی برقرار ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ