International

یونان کے جزیرے کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوب گئی، تین لاشیں نکال لی گئیں

یونان کے جزیرے کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوب گئی، تین لاشیں نکال لی گئیں

یونانی جزیرے کریٹ کے سمندر میں تارکینِ وطن کی ایک چھوٹی سی لکڑی کی کشتی بڑے جہاز کی مدد ملنے کے عین قریب پہنچ کر سمندر برد ہو گئی۔ اس حادثے کا شکار ہونے والے افراد میں سے تین کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ درجنوں تاحال لاپتا ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حادثہ جمعے کو اس وقت پیش آیا جب یونان کے سرچ اینڈ ریسکیو سینٹر کی ہدایت پر ایک تجارتی بحری جہاز تارکینِ وطن کی کشتی کے قریب مدد کے لیے پہنچا۔ بچ جانے والے مسافروں کے مطابق اس چھوٹی سی لکڑی پر لگ بھگ 50 افراد سوار تھے۔ یونانی سرکاری میڈیا ’ای آر ٹی‘ کے مطابق حادثہ اس وقت ہوا جب تارکینِ وطن نے تجارتی جہاز کو اپنے قریب دیکھا۔ جیسے ہی ان مسافروں نے جہاز کی لٹکتی ہوئی سیڑھیوں کے ذریعے اوپر چڑھنے کی کوشش کی، کشتی کا توازن اچانک بگڑ گیا اور چند ہی لمحوں میں وہ الٹ گئی۔ یونانی کوسٹ گارڈ کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ اب تک 20 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے، تاہم باقی مسافروں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہے۔ اس مشن میں چار پیٹرولنگ کی کشتیاں، ایک طیارہ اور یورپی بارڈر ایجنسی ’فرنٹیکس‘ کے دو بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔ اسی دوران علاقے میں ایک اور کشتی بھی دیکھی گئی ہے جس پر لگ بھگ 40 تارکینِ وطن سوار ہیں جس کے بعد ایک اور ریسکیو آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک برس سے زائد عرصے سے تارکینِ وطن نے یورپی یونین میں داخلے کے لیے لیبیا سے جزیرہ کریٹ تک کا یہ انتہائی خطرناک بحری راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے اعداد و شمار کے مطابق صرف سال 2025 میں 16 ہزار 700 سے زائد پناہ گزین اسی راستے سے کریٹ پہنچے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ سال 2025 کے دوران یونانی سمندری حدود میں کم از کم 107 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا لاپتا ہو گئے۔ تارکینِ وطن کی اس لہر نے یونان کی قدامت پسند حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ پناہ گزینوں کی بڑی تعداد میں آمد کے باعث حکومت نے گزشتہ موسمِ گرما میں لیبیا سے آنے والے افراد کی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی تین ماہ کے لیے معطل کر دی تھی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments