روسی سکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ دمیتری میدویدیف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ماسکو یوکرین میں مغربی ممالک کے کسی بھی فوجی یونٹ کی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا۔ میدویدیف نے آج ہفتے کے روز سوشل میڈیا ویب سائٹ 'ایکس' پر اپنے اکاؤنٹ پر لکھا "بیوقوف یورپی حکمران اب بھی یورپ میں جنگ چاہتے ہیں۔ ہزاروں بار کہا جا چکا ہے کہ روس یوکرین میں یورپی ممالک یا نیٹو کی کسی بھی فوجی یونٹ کو قبول نہیں کرے گا۔" میدویدیف نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک وڈیو بھی منسلک کی جس میں یوکرین کی اہم تنصیبات پر روسی میزائل سسٹم "اوریہشنک" کے ذریعے کیے گئے میزائل حملے کو دکھایا گیا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ اس نے یوکرین میں "اسٹریٹجک اہداف" کو خاص طور پر اپنے بیلسٹک میزائل "اوریہشنک" کے ذریعے نشانہ بنایا ہے، جس کے وار ہیڈز کی رفتار تقریباً 13 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ روسی وزارتِ دفاع نے وضاحت کی کہ یہ حملے دسمبر کے آخر میں صدر ولادی میر پوتین کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی یوکرینی کوشش کے "جواب" میں کیے گئے ہیں۔ تاہم ان الزامات کو کئیف اور مغربی دار الحکومتوں نے "جھوٹ" قرار دیا ہے۔ دوسری جانب یوکرینی سکیورٹی سروس نے جمعے کے روز ان تصاویر کو جاری کیا جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ "اوریہشنک" ہائپر سونک میزائل کے ٹکڑے ہیں، جسے ماسکو کی جانب سے منظر عام پر لائے جانے کے بعد دوسری بار استعمال کیا گیا ہے۔ یہ حملہ ملک کے مغرب میں واقع علاقے لویو (Lviv) میں کیا گیا، تاہم یوکرینی حکام نے ان اہداف کی وضاحت نہیں کی جنہیں میزائل نے نشانہ بنایا اور نہ ہی نقصانات کی تفصیل بتائی ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ