اسرائیل کے لیے امریکی سفیر ہکابی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے نظر انداز ہونے کی وجہ خود اس کی اپنی نااہلی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اقوام متحدہ کے لیے کوئی چیلنج ہوا تو وہ اس کی اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے ہوگا نہ کہ نئے قائم کردہ امن بورڈ کی وجہ سے ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا اور زور دے کر یہ بات کہی کہ اگر اقوام متحدہ کو کوئی خطرہ ہے تو وہ اس کی اپنی نا اہلی کی وجہ سے ہے۔ مشرق وسطیٰ کے موضوعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ایران کا ذکر کیا اور کہا ایران کے مسئلے کا حل اپنے وقت پر نکل آئے گا۔ انہوں نے ایران کو انتباہ کیا کہ اس امر کا امکان موجود ہے کہ ایران کو نئی امریکی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے۔ خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے شروع میں جس امن بورڈ کو غزہ سے منسوب کر کے غزہ امن بورڈ کا نام دیا گیا تھا۔ اب اس کی ساخت اور اس کے حوالے سے آنے والے تبصروں کے بعد یہ تاثر بن رہا ہے کہ یہ غزہ امن بورڈ نہیں بلکہ صرف امن بورڈ ہوگا جس کی صدارت ڈونلڈ ٹرمپ خود کریں گے اور جس کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں کی حیثیت پر منفی اثرات بڑھیں گے۔ تاہم اسرائیل میں امریکی سفیر ہکابی نے اس تصور کو مسترد کیا ہے کہ امن بورڈ اقوام متحدہ کے متبادل فورم کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی بات کبھی زیر بحث رہی ہے۔ اس کے بجائے انہوں نے کہا اس امن بورڈ کے ذریعے بین الاقوامی شراکت کو متحرک کرنا مقصود ہے تاکہ جنگوں کا خاتمہ ہو سکے اور جنگ کے بعد غزہ کو اس کی تعمیر نو میں مدد دی جا سکے۔ تاہم ہکابی نے بڑی ہوشیاری سے اقوام متحدہ کی ساکھ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کی ناکامیوں پر بات کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے 'انروا' پر اسرائیلی الزام کے پس منظر میں تنقید کی کہ 'انروا' کے کئی اہلکار حماس سے وابستہ تھے۔ اسرائیل میں امریکہ کے سفیر نے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے 'ہیومن رائٹس کونسل' کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ وہ کونسل ہے جو اپنے کام کے لیے روس و شمالی کوریا جیسے ملکوں سے رہنمائی لیتی ہے۔ ہکابی نے کہا ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ یہ روس و شمالی کوریا جیسے ملکوں سے کیوں مدد لیتے ہیں جس سے آپ کی اپنی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں امریکی سفیر نے کہا ٹرمپ اقوام متحدہ کے ساتھ آج بھی مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے جنرل اسمبلی سے خود خطاب بھی کیا ہے لیکن ٹرمپ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی تنظیم کو اپنے اوپر لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ بحال رکھنے کے لیے بامعنی اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امن بورڈ کی سربراہی پر صدر ٹرمپ کے فائز ہونے کا دفاع کرتے ہوئے کہا یہ انہیں کا آئیڈیا اور انیشی ایٹیو ہے۔ اس سے پہلے اس طرح کا کوئی آئیڈیا موجود نہیں تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کا یہ ایسا 'سکوپ' ہے جس کا انہیں کریڈٹ بھی ملنا چاہیے۔ اس امن بورڈ کے ذریعے سیاسی و جغرافیائی تقسیم کم ہوگی اور مختلف ممالک ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن بورڈ کا فوری ہدف حماس کو غیر مسلح کرنا ہے اور تمام اسرائیلی قیدیوں کو غزہ سے واپس لانا ہے اور دوسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ امن بورڈ اس لیے نہیں تخلیق کیا گیا کہ اسرائیل نے ایسا کچھ کیا تھا۔ بلکہ اس کی ضرورت اس لیے پڑی کہ حماس نے کچھ ایسا کیا تھا جس کو روکنا ضروری تھا۔
Source: Social Media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ