ایران میں جاری جنگ کے خاتمے سے متعلق وائٹ ہاؤس اور امریکی حکومت کے مختلف حصوں کی جانب سے متضاد پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ مہم ’چار سے چھ ہفتے تک‘ جاری رہ سکتی ہے۔ تاہم پینٹاگون کے حکام اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اب تک جنگ کا دورانیہ بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہ سکتی ہیں جب تک صدر یہ نہ سمجھیں کہ امریکی فوج نے اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ ایران سے ’غیر مشروط سرنڈر‘ کی توقع رکھتے ہیں۔ بظاہر اس بات پر ایران کی حکومت فی الحال، کم از کم عوامی طور پر، آمادہ نظر نہیں آتی۔ یہ بیانات امریکی انتظامیہ کی حکمت عملی کے حوالے سے مزید سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ یعنی اس مہم کی کامیابی کیسے جانچی جائے گی اور آگے کیا ہو سکتا ہے۔ جنگ جتنی طویل ہو گی، یہ سوالات ٹرمپ کے لیے اتنے ہی سیاسی طور پر پیچیدہ ہوتے جائیں گے، خاص طور پر اس لیے کہ انھوں نے انتخابی مہم کے دوران ’ہمیشہ رہنے والی جنگیں‘ شروع نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کا اشارہ بظاہر نائن الیون حملوں کے بعد شدت پسندی کے خلاف جنگ کی طرف تھا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ