سماجی کارکن اور تعلیمی اصلاحات کے علمبردار سونم وانگچک اس وقت دہلی کے صفدرجنگ اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ اسپتال کی جانب سے اتوار کی صبح جاری کیے گئے ہیلتھ بلیٹن میں بتایا گیا کہ ان کی حالت فی الحال مستحکم ہے، تاہم 21 روزہ بھوک ہڑتال کے اثرات اب ان کے جسم پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اسی وجہ سے ماہر ڈاکٹروں کی مشترکہ ٹیم مسلسل ان کی نگرانی کر رہی ہے۔ اسپتال کے مطابق وانگچک کی نبض، بلڈ پریشر اور جسم میں آکسیجن کی مقدار معمول کے مطابق ہے، لیکن خون کی جانچ میں بعض اہم اشاریوں میں تبدیلی دیکھی گئی ہے، جو طویل عرصے تک غذا نہ لینے کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مسلسل کئی روز تک روزہ یا بھوک ہڑتال کی وجہ سے جسم پر شدید دباؤ پڑتا ہے اور کسی بھی وقت پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، اسی لیے انہیں 24 گھنٹے طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ ہفتہ کی شب جاری میڈیکل اپڈیٹ میں بھی ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ سونم وانگچک پوری طرح ہوش میں ہیں اور ان کی تمام ضروری جسمانی علامات معمول کے مطابق ہیں، لیکن 21 روز سے جاری بھوک ہڑتال کے باعث ان کے جسم میں پانی کی شدید کمی (ڈی ہائیڈریشن) کے واضح آثار پائے گئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالت مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے فوری طور پر جسم میں سیال مادے اور الیکٹرولائٹس پہنچانا ضروری ہے، جس کے لیے انہیں منہ کے ذریعے محلول یا رگ کے ذریعے آئی وی فلوئیڈ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے ایک آزاد ماہر نے بھی وانگچک کا معائنہ کیا۔ انہوں نے صفدرجنگ اسپتال کی میڈیکل ٹیم کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مریض کو فوری طور پر فلوئیڈ اور الیکٹرولائٹ تھراپی کی ضرورت ہے۔ اب ایمس کا ایک ڈاکٹر بھی علاج کرنے والی ٹیم میں شامل ہو کر ان کی مسلسل نگرانی اور طبی انتظام میں تعاون کر رہا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹروں نے کئی مرتبہ سونم وانگچک کو علاج کی ضرورت سے آگاہ کیا، لیکن انہوں نے رگ کے ذریعے دیے جانے والے فلوئیڈ، اورل ری ہائیڈریشن سلوشن (او آر ایس) اور دیگر ادویات لینے سے انکار کر دیا ہے۔ اسپتال کا کہنا ہے کہ خاندان کی جانب سے بھی ابھی تک تجویز کردہ علاج کے لیے باضابطہ رضامندی نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے ڈاکٹر علاج شروع نہیں کر پا رہے ہیں۔ سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے آنگمو نے کہا ہے کہ ان کے شوہر کو ان کے نجی معالجین کی مشاورت اور منظوری کے بغیر کوئی طبی علاج نہ دیا جائے۔ خاندان کا مؤقف ہے کہ علاج سے متعلق فیصلوں میں پہلے سے ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی رائے کو ترجیح دی جانی چاہیے، اسی لیے فی الحال اسپتال اور خاندان کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔ سونم وانگچک 28 جون سے دہلی کے جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہفتہ کے روز طبیعت بگڑنے کے بعد دہلی پولیس انہیں صفدرجنگ اسپتال لے گئی۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت ضروری علاج شروع نہ کیا گیا تو ان کی حالت سنگین ہو سکتی ہے، اسی لیے میڈیکل ٹیم مسلسل انہیں اور ان کے اہل خانہ کو علاج کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
Source: Admin
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
9 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments