نئی دہلی: اترپردیش کے سنبھل میں 2024 کے تشدد سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پرسماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے سخت ردعمل ظاہرکرتے ہوئے رپورٹ کومکمل طورپرمسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ حقائق کی بنیاد پرنہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ “جھوٹی کہانی” کے مطابق تیارکی گئی ہے۔ اترپردیش اسمبلی میں پیش کی گئی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سنبھل میں ہونے والا تشدد پہلے سے منصوبہ بند تھا۔ رپورٹ میں ایس پی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق اورایس پی کے ایم ایل اے اقبال محمود کے بیٹے سہیل اقبال کے کردارکا بھی ذکرکیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سروے کے معاملے پرمسلم برادری میں غلط معلومات پھیلائی گئیں، ہلاکتوں کا سبب بننے والی گولیاں پولیس نے نہیں چلائیں اورمشتعل افراد نے پولیس کے ہتھیار چھیننے کی کوشش کی۔ پی ٹی آئی سے گفتگوکرتے ہوئے ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ رپورٹ پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ کے مطابق تیارکی گئی ہے اورایس آئی ٹی نے صرف حکومت کا مؤقف پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس رپورٹ سے بالکل اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ رپورٹ نہ صرف انہیں بلکہ سنبھل کے بے قصورعوام اورپوری برادری کوبدنام کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرپہلے ہی ایسی رپورٹ پیش کرنی تھی توپھرسرکاری وسائل اورعوام کے ٹیکس کا پیسہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ وہ پہلے بھی پولیس اورانتظامیہ کوچیلنج کرچکے ہیں کہ اگران کے پاس سی سی ٹی وی، ڈرون فوٹیج اوردیگرشواہد موجود ہیں توانہیں عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میڈیا کی کوریج میں واضح طورپردیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس فائرنگ کررہی تھی۔ ایس پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اگریہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عوام کی جانب سے گولیاں چلائی گئیں تواس کا کوئی ثبوت پیش کیا جائے۔ ان کے مطابق، کسی بھی فوٹیج میں مظاہرین کے ہاتھوں میں ہتھیارنظرنہیں آتے، اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ فائرنگ عوام نے کی۔ انہوں نے طنزیہ اندازمیں کہا کہ اگرپتھروں سے گولیاں چل سکتی ہیں تواس کا جواب ان کے پاس نہیں ہے۔
ضیاء الرحمٰن برق نے مزید کہا کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں، اسی لیے مختلف بیانات دیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں عدلیہ اور آئین پر مکمل اعتماد ہے اور انہیں یقین ہے کہ ایک دن سچ سامنے آئے گا اور انصاف ضرور ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی ٹی عدالت نہیں ہے، وہ صرف اپنی رپورٹ پیش کر سکتی ہے، جبکہ اصل فیصلہ عدالت کرے گی اور قصورواروں کو قانون کے مطابق سزا ملے گی۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments