نئی دہلی: ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) گجرات چیپٹرنے گجرات ہائی کورٹ سے ایک اہم عبوری ریلیف حاصل کرلیا ہے، جس کے تحت ضلع کچھ کے منڈرا تعلقہ میں واقع 4 مسلم مذہبی مقامات کے خلاف کسی بھی قسم کی جبری کارروائی، بشمول انہدام، پرعارضی روک لگا دی گئی ہے۔ عدالت کا یہ حکم قانونی تقاضوں، آئینی اصولوں اورقانون کی حکمرانی کے تحفظ کی ایک اہم مثال قراردیا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران ضلع کچھ میں متعدد مسلم مذہبی مقامات، جن میں مساجد، درگاہیں اوردیگرعبادت گاہیں شامل ہیں، کے خلاف انہدام اوردیگرانتظامی کارروائیاں شروع کی گئی تھیں۔ ان مقامات کوجاری کئے گئے نوٹس کے باعث مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی۔ اس صورتحال کے پیش نظراے پی سی آر گجرات نے متاثرہ مذہبی مقامات کی انتظامی کمیٹیوں کوقانونی معاونت فراہم کی۔
مسلم یووا کورکمیٹی، کَچھ کے اشتراک سے اے پی سی آرنے قانونی نمائندگی، دستاویزات کی تیاری اورگجرات ہائی کورٹ میں مقدمے کی پیروی کے تمام مراحل میں متاثرین کی معاونت کی۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب منڈرا تعلقہ کے مملتدارنے گجرات لینڈ ریونیو ایکٹ، 1879 کی دفعہ 61 کے تحت 4 مذہبی مقامات سے متعلق ڈھانچوں کوصرف 5 دنوں کے اندرہٹانے کے احکامات جاری کئے۔ ہائی کورٹ میں درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیارکیا گیا کہ گجرات لینڈ ریوینیوایکٹ ایسے احکامات کے خلاف اپیل کا قانونی حق فراہم کرتا ہے اوراپیل دائر کرنے کے لئے 90 دنوں کی مدت مقررہے۔ صرف 5 دن میں انہدام کا حکم نافذ کرنے کی ہدایت نہ صرف اس قانونی حق کوعملاً سلب کرنے کے مترادف ہے بلکہ یہ اصولِ انصاف کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسٹس انیرُدھ پی مائی نے درخواست گزاروں کوعبوری تحفظ فراہم کرتے ہوئے حکم دیا کہ انہیں قانون کے تحت اپیل کا حق حاصل ہے، لہٰذا اپیل دائر کرنے کی مقررہ قانونی مدت ختم ہونے یا متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی کے فیصلہ آنے تک ان چاروں مذہبی مقامات کے خلاف کسی بھی قسم کی جبری کارروائی، بشمول انہدام، نہیں کی جائے گی۔ عدالت کا یہ فیصلہ متاثرہ مذہبی مقامات کے لیے فوری ریلیف فراہم کرتا ہے اوراس حقیقت کی توثیق بھی کرتا ہے کہ انتظامی کارروائیاں آئین، قانونی تحفظات اور طے شدہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہی انجام دی جانی چاہئیں۔
اے پی سی آرکے نیشنل سکریٹری ندیم خان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ من مانی یا غیرقانونی انتظامی کارروائیوں کا سامنا کرنے والے افراد اوربرادریوں کوقانونی معاونت فراہم کرتی رہے گی اوراس بات کویقینی بنائے گی کہ ہرشہری کو، خواہ اس کا مذہب یا سماجی پس منظرکچھ بھی ہو، انصاف تک مساوی رسائی حاصل رہے۔ اے پی سی آرگجرات نے مسلم یووا کور کمیٹی، کچھ کی خدمات کوبھی سراہا، جس نے متاثرہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطہ، ضروری دستاویزات کی تیاری میں تعاون اورعدالتی کارروائی کے دوران مؤثرہم آہنگی کے ذریعے بروقت قانونی ریلیف کے حصول میں اہم کردارادا کیا۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments