اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مندوب پرواتھنینی ہریش نے اقوام متحدہ (یو این) کی جنرل اسمبلی میں ویٹو پاور کے استعمال کے حوالے سے ہندوستان کا موقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ویٹو کا استعمال انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جانا چاہیے، خاص طور پر ان معاملات میں جو بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے سے متعلق ہیں۔ پی ہریش نے کہا کہ ’’ویٹو کا اختیار فی الحال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل اراکین کے پاس ہے۔ ہندوستان کا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ یہ اختیار ایک ذمہ داری بھی ہے اور اس کا استعمال محدود سیاسی مفادات پورے کرنے کے لیے نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘
ہندوستانی مندوب نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد سے تقریباً 200 قراردادوں پر 331 بار ویٹو کا استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین میں سے 2 نے ساڑھے تین دہائیوں (35 سال) سے زیادہ عرصے سے ویٹو کا استعمال نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب ویٹو کے زیادہ تر استعمال یا اس کے استعمال کی دھمکی صرف 3 مستقل اراکین کی جانب سے دی گئی ہے۔
پی ہریش نے کہا کہ ’’2022 میں شروع کی گئی ویٹو پہل کو تبدیلی کی سمت میں ایک اہم قدم سمجھا گیا تھا۔ اس کے تحت ویٹو کا استعمال کیے جانے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بحث کو لازمی قرار دیا گیا، تاکہ متعلقہ ممالک کی جوابدہی طے کی جا سکے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 262/76 منظور کیے جانے کے بعد ویٹو کے بڑے پیمانے پر استعمال کا ریکارڈ اس پہل سے وابستہ امیدوں کے برعکس تصویر پیش کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مندوب پرواتھنینی ہریش نے اقوام متحدہ (یو این) کی جنرل اسمبلی میں ویٹو پاور کے استعمال کے حوالے سے ہندوستان کا موقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ویٹو ک...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments