نظرثانی شدہ ووٹر لسٹ جاری ہونے تک بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کے لیے اپوزیشن متحد
ترنمول کانگریس، سی پی ایم اور کانگریس نے بنگال کی سیاسی تقسیم سے بالاتر ہوکر ایک غیر معمولی قدم اٹھایا ہے۔ تینوں جماعتوں نے مشترکہ طور پر ریاستی الیکشن کمشنر کرشنا گپتا کو عرضداشت پیش کی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگلے ماہ مجوزہ بلدیاتی انتخابات کو جنوری 2027 میں نظرثانی شدہ ووٹر لسٹ جاری ہونے تک ملتوی کیا جائے۔
اس مشترکہ میمورنڈم پر ممتا بنرجی کے وفادار اور دم دم کے رکن پارلیمنٹ سوگتا رائے، سی پی ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن سامک لاہری اور ریاستی کانگریس صدر شوبھنکر سرکار کے دستخط ہیں۔ ان کے ساتھ بی جے پی کے علاوہ دیگر جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی دستخط کیے ہیں۔
عرضداشت میں ریاستی الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کولکاتا میونسپل کارپوریشن، ہاوڑہ میونسپل کارپوریشن اور دیگر بلدیاتی اداروں کے انتخابات کو الیکشن کمیشن کے خصوصی نظرثانی عمل کی تکمیل تک ملتوی کیا جائے۔
سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دستخط کنندگان نے بتایا کہ کولکاتا میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ اور ہاوڑہ میں تقریباً 39 ہزار اپیلیں ایس آئی آر اپیلیٹ ٹریبونلوں کے سامنے زیر التوا ہیں۔ یہ صورت حال اس کے باوجود ہے کہ نمٹائے گئے مقدمات میں 99 فیصد سے زیادہ فیصلے ووٹروں کو دوبارہ فہرست میں شامل کرنے کے حق میں آئے ہیں۔
تاہم، عرضداشت کے مندرجات سے زیادہ ترنمول کانگریس، سی پی ایم اور کانگریس کے رہنماؤں کے ایک ہی دستاویز پر دستخط کرنے کے غیر معمولی منظر نے فوری طور پر سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی۔
ترنمول کانگریس کے سوگتا رائے نے مشترکہ عرضداشت کے پیچھے کسی جماعتی سیاسی مقصد کی تردید کرتے ہوئے کہا:
’’یہ کسی ایک سیاسی جماعت کی جانب سے نہیں، بلکہ اپوزیشن جماعتوں اور شہری حقوق کی تنظیموں کی طرف سے ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں بھی بڑے پیمانے پر لوگوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کیے جانے کا ایک اور شرمناک واقعہ پیش نہ آئے۔‘‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ تین روایتی سیاسی حریفوں کا اس طرح ایک ساتھ آنا تاریخی طور پر غیر معمولی ہے، تو تجربہ کار رہنما نے کہا، ’’اچھا، تو پھر یہ آپ کی کہانی ہے۔ اسی پر لکھیں۔‘‘
سی پی ایم کے سامک لاہری نے بھی اسے غیر جانب دار شہری حقوق کی پہل قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ’’نہیں، نہیں، ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے سب نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ کئی غیر سرکاری تنظیموں اور حقوق کے کارکنوں نے بھی اس پر دستخط کیے ہیں۔ اس لیے یہ قدم کسی جماعتی سیاست کے پلیٹ فارم سے نہیں اٹھایا گیا۔‘‘
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ توجہ انتخابی حساب کتاب کے بجائے بنیادی آئینی حقوق پر ہے۔
’’یہ عوام کے بنیادی حقوق اور آئین کی بالادستی برقرار رکھنے کا معاملہ ہے۔‘‘
کانگریس کے شوبھنکر سرکار نے کہا:
’’یہ ناانصافی کے خلاف احتجاج ہے۔ فی الحال اس اتحاد سے بہت زیادہ سیاسی معنی اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔ ہمیں اپنی اپنی منزل تک پہنچنا ہے، لیکن اگر ہم اپنے اردگرد کچھ غلط ہوتا دیکھیں گے تو یقیناً متحد ہوکر کارروائی کریں گے۔ اس وقت کانگریس نے بنگال میں تنہا انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن اگر ملک اور عوام کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے کسی مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ضروری ہوا تو ہم اس سے گریز نہیں کریں گے۔ الیکشن کمیشن کو پیش کیا گیا میمورنڈم اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘
بی جے پی نے مشترکہ عرضداشت کے معاملے پر بے اعتنائی کا اظہار کیا۔ بی جے پی کے چیف بنگال ترجمان دیبجیت سرکار نے تین جماعتوں کے اتحاد سے پیدا ہونے والے سیاسی تاثر کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا، ’’انہوں نے یہ عرضداشت مل کر دی یا الگ الگ، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آج کوئی بھی اپوزیشن ہمارے لیے چیلنج نہیں ہے۔ ہماری لڑائی تمام ملک مخالف طاقتوں کے خلاف ہے، لیکن انتخابی سیاست میں ان تین جماعتوں میں سے کوئی بھی ہمارے دائرۂ توجہ میں نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں پوری امید ہے کہ بلدیاتی اداروں اور مستقبل کے دیگر انتخابات میں ووٹر قومی سطح پر نریندر مودی اور یہاں سوویندو ادھیکاری کے ترقیاتی ماڈل کے حق میں ووٹ دیں گے۔‘‘
اس ’غیر معمولی‘ پیش رفت کا تجزیہ کرتے ہوئے سینئر سیاسی مبصر شوبھاموئے میترا نے مشترکہ پہل کو بنگال کی دیرینہ مخالفِ اسٹیبلشمنٹ دانشورانہ روایت کا اظہار قرار دیا، جو دائیں بازو کی سیاسی قوتوں کے استحکام کے خلاف سامنے آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’بی جے پی کے خلاف جو حقیقی لڑائی اب واضح شکل اختیار کر رہی ہے، وہ اب تک کسی حد تک ’سیٹنگ‘ والی لڑائی تھی، لیکن اب اس میں حقیقی مزاحمت کا عنصر بڑھ رہا ہے۔ سیاسی طور پر باشعور بنگالی اب بی جے پی اور دائیں بازو کی قوتوں کے خلاف حقیقی مزاحمت چاہتے ہیں۔‘‘
میترا نے مزید کہا، ’’اسی لیے بیدار ذہن رکھنے والے اور دانشور بنگالیوں میں بھی ان دستخطوں کے بعد جس طنز و تنقید کی توقع کی جا رہی تھی، وہ نظر نہیں آ رہی۔‘‘
عرضداشت میں بنگال میں متنازع خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے معاملے کو نمایاں کیا گیا ہے۔ یہ عمل متنازع چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی نگرانی میں ہوا تھا۔ عرضداشت میں خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ ووٹر لسٹوں کی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کرانے سے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر لوگوں کو حقِ رائے دہی سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔
نظرثانی شدہ ووٹر لسٹ جاری ہونے تک بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کے لیے اپوزیشن متحد...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments