Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

’کاکروچ‘ اور ’دماغی نکسلوں‘ کے خلاف سوویندو کی تنبیہ

Admin
By Admin
Oct 27, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

’کاکروچ‘ اور ’دماغی نکسلوں‘ کے خلاف سوویندو کی تنبیہ
’کاکروچ‘ اور ’دماغی نکسلوں‘ کے خلاف سوویندو کی تنبیہ — October 27, 2026
’کاکروچ‘ اور ’دماغی نکسلوں‘ کے خلاف سوویندو کی تنبیہ، وزیر اعلیٰ کی اپیل: وزیر اعظم مودی کے ساتھ متحد رہیں
وزیر اعظم نریندر مودی کی حمایت میں عوام سے متحد رہنے کی اپیل کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے ریاست کے لوگوں سے کہا کہ وہ بنگال میں ’دماغی نکسلوں‘ اور ’کاکروچ‘ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے متحد اور چوکس رہیں۔

مشرقی مدنی پور کے تملوک میں بی جے پی کے نئے دفتر کا سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’آپ سب کو ہمارے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی جی کے ساتھ متحد ہوکر کھڑا ہونا چاہیے۔ متحد رہیں اور پوری طرح چوکس رہیں، تاکہ ’دماغی نکسل‘، ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘، کشمیر کے لیے ’آزادی‘ کا مطالبہ کرنے والے اور ’کاکروچ و کھٹمل‘ کسی بھی طرح تعداد میں نہ بڑھ سکیں اور نہ پھیل سکیں۔‘‘

گزشتہ چند دنوں سے سوویندو بار بار لوگوں کو ان عناصر سے ہوشیار رہنے کی اپیل کر رہے ہیں، جنہیں وہ ’کاکروچ‘ اور ’کھٹمل‘ قرار دیتے ہیں۔

ان کے بیانات کا بنیادی نشانہ بایاں محاذ اور بائیں بازو کی مختلف تنظیمیں رہی ہیں، جو بی جے پی کے خلاف سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے اور اس کے اقدامات پر تنقید کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ سرگرمیاں اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کی انتخابی شکست اور اس کے بعد پارٹی کے دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں۔

سی پی ایم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ بار بار لوگوں سے نام نہاد ’کاکروچ‘ اور ’کھٹمل‘ کے خلاف متحد ہونے کی اپیل اس لیے کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ نوجوان دہلی ہی نہیں بلکہ بنگال میں بھی بی جے پی کے خلاف متحد ہو سکتے ہیں۔

سی پی ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن سوجن چکرورتی نے کہا، ’’دراصل، اس طرح کی تمام اپیلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ ان نوجوانوں سے خوف زدہ ہیں جو ملک بھر میں بی جے پی کی غلط کاریوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ’کاکروچ‘ اور ’کھٹمل‘ صرف دہلی تک محدود نہیں ہیں۔ کولکاتا، بنگال کے مختلف علاقوں اور یہاں تک کہ ان کے اپنے آبائی سیاسی گڑھ مشرقی مدنی پور میں بھی ان کی موجودگی نمایاں ہے۔‘‘

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ تحریک کے بعد سے بی جے پی نوجوانوں تک پہنچنے کے لیے خاموشی سے کئی اقدامات کر رہی ہے۔ پارٹی اپنی قوم پرستانہ سوچ کو فروغ دے رہی ہے اور اس بات کو اجاگر کر رہی ہے کہ نریندر مودی حکومت نے ملک کی بہتری کے لیے کیا کام کیے ہیں۔

بی جے پی کی نظریاتی سرپرست تنظیم آر ایس ایس نے بھی بنگال کے مختلف بلاکوں اور قصبوں میں نوجوانوں کی میٹنگیں منعقد کی ہیں، تاکہ اپنی قوم پرستانہ سوچ کو پھیلایا جا سکے۔

بی جے پی کے چیف ترجمان دیبجیت سرکار نے کہا، ’’لوگ حکومت یا سیاسی جماعت پر بھی تنقید کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم ان لوگوں کو برداشت نہیں کریں گے جو ملک مخالف ہیں یا ملک کے بنیادی ستونوں، مثلاً عدلیہ یا انتظامیہ کے خلاف کام کرتے ہیں۔ ہم کسی ایسی طاقت کو ملک میں بدنظمی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے، جس کی نیت خراب ہو۔‘‘

’نشانے پر‘ ممتا

ہلدیہ میونسپلٹی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے سوویندو نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات میں ممتا بنرجی کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑے۔ انہوں نے بی جے پی کارکنوں سے تمام 30 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کی اپیل کی۔

سوویندو نے کہا، ’’ہلدیہ میونسپلٹی کے انتخابات اگلے چند دنوں میں ہونے والے ہیں۔ ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ تمام 30 نشستوں پر ان کی تعداد صفر ہو جائے۔ ممتا بنرجی کو تمام 30 نشستوں سے خالی ہاتھ واپس بھیجنا ہوگا۔ انہوں نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ مزید نقصان نہ پہنچا سکیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ فلتا کے دوبارہ انتخاب اور نندی گرام و ریجی نگر کے ضمنی انتخابات میں سامنے آنے والے نتائج آئندہ میونسپلٹی اور پنچایت انتخابات میں بھی دہرائے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کو 60 فیصد ووٹ حاصل ہوں گے۔

تاہم، بیلی گھاٹا کے رکن اسمبلی اور ترنمول کانگریس کے رہنما کنال گھوش نے وزیر اعلیٰ کے بیان کو خطرناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ انتخابات کے دوران انتظامیہ، پولیس اور دیگر اداروں کو استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے عوامی حمایت کے ذریعے بنگال میں کامیابی حاصل نہیں کی، بلکہ الیکشن کمیشن کی مدد سے انتخابی دھاندلی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا۔

لکشمی پوجا کے موقع پر دورہ

سوویندو نے اتوار کی رات لکشمی پوجا کے موقع پر این سی پی آئی کے رکن پارلیمنٹ سودیپ بندوپادھیائے کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترنمول کانگریس کے سابق رہنما کی رہائش گاہ پر دعوت قبول کرنے میں انہیں کوئی غلط بات نظر نہیں آتی، خصوصاً اس لیے کہ وہ اب این ڈی اے کا حصہ بن چکے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی ان کے ساتھ ناشتہ بھی کر چکے ہیں۔

اس دورے کے بعد ایک بار پھر یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ آیا این سی پی آئی آئندہ کولکاتا میونسپل کارپوریشن انتخابات بی جے پی کے اتحادی کی حیثیت سے لڑے گی۔

تاہم، بی جے پی کے ریاستی صدر سامک بھٹاچاریہ نے کہا کہ بی جے پی ماضی میں بھی انتخابات تنہا لڑتی رہی ہے۔ انہوں نے اپنے اس موقف کو دہرایا کہ پارٹی آئندہ انتخابات بھی اپنے دم پر لڑے گی۔

انتخابی درخواستیں

بی جے پی نے کولکاتا اور ہاوڑہ کے میونسپل انتخابات میں امیدوار بننے کے خواہش مند افراد سے درخواستیں طلب کرنے کے لیے اپنے دفتر، 6 مرلی دھر سین لین، میں نو ڈراپ باکس رکھے تھے۔

درخواستیں جمع کرانے کے لیے پیر آخری دن تھا۔ ایک ذریعے کے مطابق، ان ڈراپ باکس میں 3,500 سے زیادہ درخواستیں جمع کی گئیں۔ پارٹی ان درخواستوں کی جانچ اور تصدیق کرے گی تاکہ امیدواروں کا انتخاب کیا جا سکے۔ اس عمل میں پارٹی کے اندر سے ملنے والی سفارشات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔

’کاکروچ‘ اور ’دماغی نکسلوں‘ کے خلاف سوویندو کی تنبیہ، وزیر اعلیٰ کی اپیل: وزیر اعظم مودی کے ساتھ متحد رہیں...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn