بنگلہ دیش نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ (جس کا رسمی نام باہمی ٹیرف معاہدہ ہے) کر کے مصنوعات کی برآمدات کے معاملے میں بھارت کو سخت مقابلے کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق ڈھاکہ امریکہ سے طیارے خریدے گا، جس کے بدلے میں امریکہ بنگلہ دیش کی بعض ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مصنوعات پر سے باہمی ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) ختم کر دے گا۔ قدرتی طور پر بنگلہ دیش سے امریکہ برآمد ہونے والی ان ٹیکسٹائل مصنوعات کی قیمتیں دیگر ممالک کی اسی طرح کی مصنوعات کے مقابلے میں بہت کم ہوں گی۔ حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی مصنوعات پر باہمی یا درآمدی ڈیوٹی 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دی تھی۔ واشنگٹن نے روس سے تیل کی درآمد پر نئی دہلی پر عائد اضافی 25 فیصد ڈیوٹی بھی واپس لے لی ہے۔ اس صورتحال میں بظاہر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ بھارتی برآمد کنندگان کو فائدہ ہوگا اور بھارتی مصنوعات امریکی مارکیٹ میں سستی دستیاب ہوں گی۔ بنگلہ دیش بنیادی طور پر امریکہ اور یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کو ٹیکسٹائل برآمد کرتا ہے، جو ڈھاکہ کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کمانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ بھارت عالمی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے بنگلہ دیشی مصنوعات پر 19 فیصد ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے، جو بھارت کے مقابلے میں 1 فیصد زیادہ ہے۔ بنگلہ دیش پر عائد ڈیوٹی بھارت سے قدرے زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈھاکہ کی مصنوعات مہنگی ہونی چاہیے تھیں، جس سے بھارت کو اپنے حریف ممالک کے مقابلے میں برتری حاصل تھی۔ لیکن پیر کو ہونے والے امریکہ-بنگلہ دیش معاہدے میں واشنگٹن نے چند شرائط کے بدلے ڈھاکہ کی ٹیکسٹائل مصنوعات پر سے ڈیوٹی ختم کرنے کی بات کہی ہے، جس سے بھارت کے برآمدی امکانات پر پانی پھرنے کا خدشہ ہے۔ اس حوالے سے بھارتی تجارتی ماہر ابھیجیت داس کا کہنا ہے کہ پیر کی رات تک بھارت ٹیکسٹائل کی برآمدات کے معاملے میں سازگار پوزیشن میں تھا کیونکہ اس کے دو حریف ممالک بنگلہ دیش اور ویتنام پر امریکی ڈیوٹی (بالترتیب 19 اور 20 فیصد) زیادہ تھی۔ لیکن بدلی ہوئی صورتحال میں یہ فائدہ اب باقی نہیں رہا۔ بنگلہ دیش یورپی یونین کے ساتھ بھی آزاد تجارتی معاہدہ کرنا چاہتا ہے، ایسی صورت میں نئی دہلی کو دوبارہ دھچکا لگ سکتا ہے۔ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، یورپی یونین کے ممالک کو سب سے زیادہ مصنوعات چین (28 فیصد) برآمد کرتا ہے، جس کے بعد بنگلہ دیش (22 فیصد) کا نمبر ہے۔ بھارت وہاں صرف 5 فیصد مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ اگر بنگلہ دیش کو بھی آزاد تجارتی معاہدے کے تحت بھارت جیسی سہولیات مل گئیں تو اس ملک کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ