International

تیل کے عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کا بڑا فیصلہ

تیل کے عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کا بڑا فیصلہ

پیرس (12 مارچ ): انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) عالمی توانائی بحران کے پیش نظر 40 کروڑ بیرل خام تیل فراہم کرنے پر رضامند ہو گئی۔ روئٹرز کے مطابق بدھ کے روز بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد عالمی خام تیل کی قیمتوں میں آنے والے اضافے سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک ذخائر سے ریکارڈ 40 کروڑ بیرل تیل جاری کیا جائے گا، جس میں زیادہ تر حصہ امریکا فراہم کرے گا۔ آئی ای اے رکن ممالک یہ خام تیل اسٹریٹجک ذخائر سے جاری کریں گے، ایجنسی نے کہا کہ اس اقدام کی اس کے تمام 32 رکن ممالک نے حمایت کی ہے۔ یہ 1970 کی دہائی میں ایجنسی کے قیام کے بعد ذخائر کے مشترکہ اجرا کا چھٹا موقع ہے۔ امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ کے مطابق امریکا اس میں نمایاں کردار ادا کرے گا اور 172 ملین بیرل تیل فراہم کرے گا۔ آئی ای اے کے مطابق یہ تیل اس لیے جاری کیا جا رہا ہے تاکہ تیل کی قیمتوں میں اس اضافے کو قابو کیا جا سکے جو 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں عالمی تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی سپلائی میں خلل پڑنے سے پیدا ہوا ہے۔ بدھ کو ایران نے کہا کہ دنیا کو 200 ڈالر فی بیرل تک تیل کی قیمت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس اعلان کے باوجود بدھ کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فی صد اضافہ ہوا کیوں کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر مزید حملوں نے سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ذخائر کا اجرا ان خدشات کو کم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ 40 کروڑ بیرل تیل کی یہ مقدار آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کی وجہ سے ضائع ہونے والی سپلائی کے صرف تقریباً 20 دن کے برابر ہے، اور اسے عالمی منڈی تک پہنچنے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔ بلیک گولڈ انویسٹر کے سی ای او اور تیل کی منڈی کے ماہر گرے راس نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’مجھے حیرت نہیں کہ مارکیٹ اس طرح ردِعمل دے رہی ہے کیوں کہ اس اعلان کا اثر پہلے ہی قیمتوں میں شامل ہو چکا تھا، جب تک یہ جنگ ختم نہیں ہوتی، اس صورت حال کو سنبھالنا ممکن نہیں، سوائے اس کے کہ طلب کم ہو جائے یا قیمتیں بہت زیادہ بڑھ جائیں۔‘‘ یاد رہے کہ 2022 میں یوکرین جنگ کے بعد آئی ای اے کے ارکان نے 18 کروڑ بیرل تیل جاری کیا تھا۔ وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ امریکی حصے کی فراہمی میں 120 دن لگیں گے اور محکمہ توانائی بعد میں اسٹریٹجک ذخائر کو جلد دوبارہ بھرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایک یورپی یونین کے سفارت کار نے کہا کہ آئی ای اے کے تازہ فیصلے کے پیچھے واشنگٹن کا اہم کردار ہے، دباؤ زیادہ تر امریکی حکومت کی طرف سے آیا جو یہ ذخائر جاری کروانا چاہتی تھی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments