ایرانی عدلیہ نے منگل کے روز جنوری سنہ 2026ء کے احتجاجات کے پس منظر میں گرفتار کیے گئے امیر حسین ملکی اور امیر حسین ابراھیمی کو اصفہان شہر کے علاقے ملک شہر میں علی خانی چوک کے واقعات کے کیس میں پھانسی دیے جانے کا اعلان کیا ہے۔
قابض حکام اس سے قبل اسی کیس میں سات افراد کو پھانسی دے چکے تھے جس کے بعد آج دو افراد کو پھانسی دیے جانے کے بعد ان افراد کی تعداد نو تک پہنچ گئی ہے جن کے خلاف سزا ئے موت پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ 8 جنوری سنہ 2026ء کو چوک میں ہونے والے تصادم کے دوران باسیج فورسز اور پولیس کے چار اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
ایرانی عدلیہ سے وابستہ ایجنسی "میزان" نے بتایا کہ ملکی اور ابراھیمی کو قومی سلامتی کے خلاف اقدامات کے ذریعے "جنگ اور فساد فی الارض" کے جرائم میں سزا سنائی گئی جس کے نتیجے میں الزامات کے مطابق، عام نظم و ضبط میں شدید خلل پڑا اور واقعے کے گرد و نواح میں اسلحے کے استعمال، خوف و ہراس پھیلانے اور بے امنی پیدا کرنے کے ذریعے وسیع پیمانے پر بے امنی پھیلی۔
ایرانی عدلیہ نے کہا کہ امیر حسین ابراھیمی نے عوامی مقامات و املاک کو نقصان پہنچایا اور سکیورٹی اہلکاروں پر تشدد کیا۔ انہیں ان کے بھائی کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا جنہوں نے بھی احتجاجات میں حصہ لیا تھا۔
جہاں تک امیر حسین ملکی کا تعلق ہے میزان ایجنسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے احتجاج کے دوران " ہتھیار" اٹھا رکھا تھا، اور دیگر ملزمان کے بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہ واقعات کی جگہ پر موجود تھے اور پولیس اہلکاروں کے قتل میں حصہ لیا تھا، جسے ایجنسی نے "خوفناک قتل" قرار دیا۔
اپیل کے بعد توثیق
ایرانی عدلیہ کے مطابق ملزمان کی جانب سے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کیے جانے کے بعد سزا ئے موت کے احکامات کی توثیق کر دی گئی تھی۔ تاہم حکام نے اس عدالتی بینچ کا نام ظاہر نہیں کیا جس نے کیس کی سماعت کی، نہ ہی اس جج کا نام بتایا جس نے فیصلہ سنایا، اور نہ ہی ان وکلا کے نام سامنے لائے جنہوں نے ان کا دفاع کیا ہوگا، اسی طرح اس شعبے کی بھی نشاندہی نہیں کی گئی جس نے سپریم کورٹ میں اپیل کی درخواست کا جائزہ لیا۔
امیر حسین ملکی اور امیر حسین ابراھیمی کی پھانسی علی رضا سباھی اور علی رضا رئیسی کے خلاف سزا ئے موت پر عمل درآمد کے ایک مہینے سے بھی کم عرصے کے بعد سامنے آئی ہے۔
علی رضا سباھی کے ابنِ عم ابو الفضل سباھی کے خلاف بھی اسی کیس میں سزا ئے موت کا فیصلہ جاری ہوا تھا اور بعد میں اس پر عمل درآمد کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح سابقہ رپورٹس نے بتایا تھا کہ علی رضا سباھی کی والدہ بھی جیل میں قید ہیں۔
اصفہان کے مظاہرین کی پھانسیوں کے معاملے نے حقوقی تنظیموں کی شدید تنقید کو جنم دیا ہے، جنہوں نے ایرانی حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے جسمانی و نفسیاتی تشدد کے تحت ملزمان سے زبردستی اعترافات حاصل کیے اور انہیں سزا ئے موت کے احکامات کے صدور کی بنیاد بنایا۔
ایران میں حقوقِ انسان کی تنظیم نے کہا کہ کیس کے پس منظر میں دسیوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان میں سے متعدد کو ایسے مقدمات کے بعد سزا ئے موت کا سامنا کرنا پڑا جن کی شفافیت اور قانونی ضمانتوں پر تنظیم نے شک کا اظہار کیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ملزمان کے حقوق کی ورزیوں کو دستاویز کیا، جن میں تشدد، انفرادی قید اور زبردستی اعترافات پر انحصار شامل ہیں اور سزا ئے موت کے احکامات پر عمل درآمد روکنے اور منصفانہ محاکمے کی ضمانت دینے کا مطالبہ کیا۔
ایرانی عدلیہ نے منگل کے روز جنوری سنہ 2026ء کے احتجاجات کے پس منظر میں گرفتار کیے گئے امیر حسین ملکی اور امیر حسین ابراھیمی کو اصفہان شہر کے علاقے ملک شہر میں علی خانی چوک کے واقعا...
Source: Admin