بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے گرد صنعتی علاقوں میں منگل کو نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے، جبکہ تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے پر گارمنٹس ورکرز کا احتجاج چوتھے روز بھی جاری رہا اور مزدوروں نے کام پر واپس جانے کی اپیل مسترد کر دی۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مظاہرین حکومت کی جانب سے ملبوسات کی صنعت میں کم از کم اجرت کا جائزہ لینے کے لیے بورڈ کے قیام کے اعلان کے باوجود سڑکوں پر موجود ہیں۔ یہ صنعت لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے اور بنگلہ دیش کی برآمدی آمدنی کا بڑا حصہ اسی سے حاصل ہوتا ہے۔
17 کروڑ آبادی والا جنوبی ایشیائی ملک چین کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا گارمنٹس برآمد کنندہ ہے اور کئی بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے کپڑے تیار کرتا ہے۔
پولیس ترجمان کامرالزمان منیرہ کے مطابق پولیس نے گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ہزاروں نامعلوم مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں، جبکہ احتجاج شروع ہونے کے بعد سے 58 پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔
مزدوروں کا کہنا ہے کہ متعدد مظاہرین بھی زخمی ہوئے ہیں۔ کئی مقامات پر مظاہرین نے پولیس پر اینٹیں پھینکیں جبکہ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے لاٹھیاں چلائیں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا کہ ’کچھ فیکٹریاں بند ہیں اور مزدور سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ کچھ شرپسند عناصر تشدد کو ہوا دے کر صورتحال مزید پیچیدہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
بارڈر گارڈ بنگلہ دیش نے بتایا کہ اس نے ڈھاکہ کے قریب اہم صنعتی علاقوں غازی پور اور نارائن گنج میں اہلکار تعینات کر دیے ہیں اور صورتحال کی نگرانی کے لیے ڈرونز استعمال کیے جا رہے ہیں۔
گارمنٹس کی صنعت بنگلہ دیش کی تقریباً 80 فیصد برآمدی آمدنی فراہم کرتی ہے، جس کی مالیت 38 ارب ڈالر تک پہنچتی ہے، جبکہ اس شعبے سے 40 لاکھ سے زیادہ افراد وابستہ ہیں۔
مزدوروں کا کہنا ہے کہ خوراک، رہائش، ٹرانسپورٹ اور علاج معالجے کے بڑھتے اخراجات نے ان کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ ملک میں مہنگائی کی شرح تقریباً آٹھ فیصد ہے۔
مظاہرین کم از کم ماہانہ تنخواہ 30 ہزار ٹکا (245 ڈالر) مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو موجودہ 12 ہزار 500 ٹکا کے مقابلے میں تقریباً 140 فیصد زیادہ ہے۔
صنعتی نمائندوں کے مطابق کم از کم 670 فیکٹریوں کے کارکن کام چھوڑ چکے ہیں۔
غازی پور میں مظاہرین نے ڈھاکہ ا۔ٹنگائل شاہراہ بند کر دی اور سڑک کنارے ملبے کو آگ لگا دی، تاہم بعد میں پولیس نے راستہ کھلوا دیا۔ ڈھاکہ کے علاقے میرپور میں بھی سینکڑوں مزدور لاٹھیاں اٹھائے اپنے کام کی جگہوں سے نکل کر احتجاج میں شامل ہوئے اور سکیورٹی فورسز سے ان کی جھڑپیں ہوئیں۔
ایک خاتون گارمنٹس ورکر، جنہوں نے اپنا نام صرف بیگم بتایا، نے کہا کہ غیر مسلح مزدوروں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد ان کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔
انہوں نے کہا کہ اگر اجرت بورڈ نے تنخواہوں میں اضافے کا اعلان نہ کیا تو احتجاج ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔
بنگلہ دیش فروٹ آف دی لوم، لیوائز اور وی ایف کارپوریشن جیسی عالمی کمپنیوں کے لیے ملبوسات تیار کرتا ہے جن کے برانڈز میں وینز، ٹمبرلینڈ اور دی نارتھ فیس شامل ہیں۔
وزیر داخلہ نے بغیر ثبوت پیش کیے دعویٰ کیا کہ 2024 کی عوامی تحریک میں معزول ہونے والی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے حامی بدامنی کے پیچھے ہیں۔
پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کالعدم عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے 33 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
اجرت بورڈ میں مزدوروں کے نمائندے بابل اختر نے کارکنوں سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’براہِ کرم اپنی فیکٹریوں میں واپس جائیں۔ ہم منصفانہ اجرت کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور ضرورت پڑنے پر آپ کو دوبارہ تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کریں گے۔‘
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے گرد صنعتی علاقوں میں منگل کو نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے، جبکہ تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے پر گارمنٹس ورکرز کا احتجاج چوتھے روز بھی جاری رہا ا...
Source: Admin