واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جاری پرتشدد احتجاج اور ہنگاموں کی تمام تر ذمہ داری فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی امیگریشن پالیسیوں پر عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر وہ ان کے مشورے پر عمل کرتے تو اس بحران سے بچا جا سکتا تھا।
"پیرس بہت جلد ایک مسلم شہر بن جائے گا": وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک تنازع کھڑا کرنے والا بیان دیتے ہوئے کہا، "پیرس بہت جلد ایک مسلم شہر بننے والا ہے، اور یہ کوئی طے شدہ بات نہیں تھی۔"
میکرون کو پرانی تنبیہ: ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے سالوں پہلے میکرون کو اتنی بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کو فرانس میں داخلے کی اجازت دینے سے منع کیا تھا۔ انہوں نے کہا، "وہ میرا دوست ہے، میں نے اسے بہت پہلے کہا تھا کہ تم فرانس میں ایک بڑی غلطی کر رہے ہو اور پوری دنیا کو اندر آنے دے رہے ہو۔"
کرنفیو اور پابندیاں: ٹرمپ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پیرس، لائل، نیس اور دیگر شہروں میں ہفتے کے آخر میں ہونے والی لوٹ مار، ہنگاموں اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد مقامی سطح پر کرفیو اور عوامی اجتماع پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ حکومت پر بڑھتا ہوا دباؤ: ان پرتشدد مظاہروں اور سیکورٹی کی ناکامی کی وجہ سے وزیراعظم سیبسٹین لیکورنو کی حکومت پر دباؤ اور عوامی غصہ شدید بڑھ گیا ہے۔ مالی و دیگر نقصانات: ہنگامہ آرائی کے باعث کاروباری اداروں کو سنگین نقصان پہنچا ہے، اور اگلی صدارتی انتخابات سے قبل سیاسی ماحول میں شدید گرما گرمی دیکھی جا رہی ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جاری پرتشدد احتجاج اور ہنگاموں کی تمام تر ذمہ داری فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی امیگریشن پالیسیوں پر عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments