Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

علی خامنہ ای کے دفتر کا ان کے نام پر سڑکوں کا نام رکھنے سے انکار، مشہد میں احتجاج

Admin
By Admin
Oct 20, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

علی خامنہ ای کے دفتر کا ان کے نام پر سڑکوں کا نام رکھنے سے انکار، مشہد میں احتجاج
علی خامنہ ای کے دفتر کا ان کے نام پر سڑکوں کا نام رکھنے سے انکار، مشہد میں احتجاج — October 20, 2026
سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دفتر نے سڑکوں اور عوامی مقامات کا نام علی خامنہ ای کے نام پر رکھنے سے انکار کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں سالوں سے تاریخی اور عام نام رکھتے ہیں۔ اس موقف سے اس نام بدلی کی مہم پر تحفظات کی عکاسی ہوتی ہے جو ان کے جاں بحق ہونے کے بعد ملک میں دیکھی گئی۔

اس حوالے سے مشہد کی سٹی کونسل کے فیصلوں کے بارے میں قانونی اور انتظامی تنازع دیکھا گیا۔ دفتر نے مشہد بلدیہ کی طرف سے سڑکوں اور مقامات کو علی خامنہ ای کے نام پر رکھنے کے لیے پیش کردہ ایک تجویز کے ایک سرکاری جواب میں کہا کہ دفتر علی خامنہ ای کے نام سے تاریخی اور عوامی نوعیت کی سڑکوں اور مقامات کے ناموں کو تبدیل کرنے کی حمایت نہیں کرتا۔ سابق ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے فیصلے کرنے سے پہلے قبل از وقت ہم آہنگی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں جلدی میں اٹھائے گئے اقدامات سے گریز کیا جائے۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب مشہد سٹی کونسل نے کئی اہم مقامات اور سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کی منظوری دی جن میں کوہسنگی اور یونیورسٹی روڈ شامل ہیں ۔ علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جان سے گئے تھے۔

ایرانی رپورٹس کے مطابق نام تبدیلی کی تجویز کے اس فیصلے میں علی شریعتی سکوائر بھی شامل تھا۔ کونسل کے ارکان نے اس قدم کو ایسے شہر میں "خامنہ ای کی یاد کو زندہ رکھنے" کی کوشش کے طور پر پیش کیا جہاں وہ بڑے ہوئے تھے۔

کونسل نے ان مطالبات کی حمایت کی جو ان کے مطابق عوامی اور ثقافتی حلقوں کی طرف سے پیش کیے گئے تھے۔ تاہم اس فیصلے نے مقامی سطح پر اعتراضات بھی پیدا کیے۔ اس کے نتیجے میں ملک کے شمال مشرق میں واقع شہر مشہد اور صوبہ خراسان رضوی کی انتظامی اور نگرانی کرنے والی باڈیز کے ساتھ تنازع سامنے آگیا۔

ایرانی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بلدیاتی کونسلوں کے فیصلوں پر نگرانی کرنے والے ادارے نے دستاویزات کی کمی اور طریقہ کار کے مسائل کی وجہ سے نام تبدیل کرنے کے فیصلے کو رد کر دیا۔ اس کے بعد یہ تنازع صوبے کی تنازعات کے حل کی کمیٹی کو بھیجا گیا۔ مقامی حکام نے تصدیق کی کہ کمیٹی نے فیصلے کو منسوخ کر دیا۔ سٹی کونسل کا خیال تھا کہ اس اعتراض کو مقررہ قانونی مدت کے اندر مطلع نہیں کیا گیا تھا۔

"خامنہ ای کے آثار کے تحفظ اور اشاعت" کے دفتر کے موقف سے ظاہر ہوا ہے کہ ان کا نام عوامی مقامات پر دینے کا معاملہ حکومت سے وابستہ اداروں کے اندر متفقہ نہیں ہے۔ خاص طور پر دفتر کی جانب سے پیشگی ہم آہنگی کی ضرورت کا مطالبہ کرنے کی روشنی میں۔ دوسری طرف سٹی کونسل اپنے فیصلے کے نفاذ کو آگے بڑھانے پر اصرار کر رہی ہے۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب علی خامنہ ای کے بیٹے اور مارچ 2026 میں اپنے والد کے جاں بحق ہونے کے بعد سپریم لیڈر کے عہدے پر ان کے جانشین مجتبیٰ خامنہ ای نے منصب سنبھالنے کے بعد سے عام منظر عام پر آنے سے گریز جاری رکھا ہوا ہے۔ اس عدم موجودگی نے عوامی مقامات پر سابق سپریم لیڈر کے نام کو زندہ کرنے کی کوششوں کے جاری رہنے کے دوران بڑھتے ہوئے سوالات کو پیدا کیا ہے۔ ان دونوں معاملات کے ایک ساتھ سامنے آنے کے باوجود ایسے سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں جو مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی اور سڑکوں کے نام بدلنے پر جاری تنازع کو جوڑتے ہوں۔ اس سے یہ معاملہ کسی براہ راست تعلق کے حتمی دلائل کی غیر موجودگی میں محض ایک جیسے زمانے کے ساتھ سامنے آنے والا معاملہ ہی رہتا ہے۔

تاہم خامنہ ای کے آثار کے تحفظ اور اشاعت کے دفتر اور نگرانی و انتظامی اداروں کے مسلسل اعتراضات کے ساتھ مشہد میں نام بدلنے کے فیصلوں کا مستقبل غیر یقینی ہوگیا ہے۔ یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ آیا حکام ان اقدامات پر نظر ثانی کریں گے یا ایسی سڑکوں اور مقامات کے ناموں پر تنازع جاری رہے گا جو دہائیوں سے شہر کی یادداشت سے جڑے ہوئے ہیں۔

سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دفتر نے سڑکوں اور عوامی مقامات کا نام علی خامنہ ای کے نام پر رکھنے سے انکار کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں سالوں سے تاریخی اور عام نام رکھ...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn