صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اسرائیل کے ساتھ تقریباً 660 ملین ڈالر مالیت کے اسلحے کے ایک بڑے معاہدے کو حتمی شکل دے رہی ہے، جس میں 27 ہزار سے زائد بم شامل ہیں۔ اس ڈیل کو ہنگامی اختیارات کے اعلان کے ذریعے منظور کیا گیا ہے تاکہ کانگریس میں معمول کی طویل جائزہ کارروائی سے بچا جا سکے۔ امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اس دفاعی پیکج میں ایم کے-80 سیریز کے ہزاروں بم اور متعلقہ ساز و سامان شامل ہے۔ انتظامیہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ ایک ایسی ہنگامی صورتحال ہے جس میں فوری طور پر اسلحے کی فروخت ناگزیر ہے۔ اس ہنگامی زمرے ( کے استعمال سے امریکی انتظامیہ کو اسلحہ کی برآمدات کے کنٹرول کے قانون کے تحت پارلیمانی جائزے کے طریقہ کار کو بائی پاس کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اس بڑے پیمانے کے معاہدے میں 20 ہزار سے زائد بم شامل ہیں جن کی مجموعی مالیت 660 ملین ڈالر کے قریب ہے۔ تفصیلات کے مطابق تقریباً 12 ہزار بی ایل یو-110 ( بم، جن میں سے ہر ایک کا وزن تقریباً نصف ٹن ، تقریباً 10 ہزار بم جن کا وزن 250 کلوگرام کے لگ بھگ، 5 ہزار چھوٹے قطر کے بم اور اس کے علاوہ تکنیکی، لاجسٹک خدمات اور آپریشنل سپورٹ بھی اس پیکج کا حصہ ہے۔ توقع ہے کہ قابض اسرائیل اس سودے کی رقم کا ایک حصہ اس سالانہ فوجی امداد سے ادا کرے گا جو اسے امریکہ سے حاصل ہوتی ہے، جس کی مالیت تقریباً 3.8 ارب ڈالر ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار میں یہ پہلا موقع ہے کہ انتظامیہ نے اسرائیل کو اسلحے کی فوری فراہمی کے لیے باقاعدہ طور پر ہنگامی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کانگریس کو نظر انداز کیا ہے۔ اس معاہدے کی ایک نمایاں اور دلچسپ تفصیل یہ ہے کہ اس کا بنیادی ٹھیکیدار ٹیکساس میں واقع کمپنی 'ریبکون یونائیٹڈ سٹیٹس' ہے، جو کہ ترکیہ کے اسلحہ ساز ادارے 'ریبکون' (Repkon) کی ذیلی کمپنی ہے۔ ترکیہ کی اس کمپنی نے مارچ سنہ 2025ء میں امریکی دفاعی کمپنی 'جنرل ڈائنامکس' سے گارلینڈ شہر میں واقع یہ پروڈکشن پلانٹ خریدا تھا۔ یہ کارخانہ امریکہ میں واحد ایسی تنصیب ہے جو ایم کے-80 سیریز کے بموں کے ڈھانچے تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بم 'جے ڈیم' (JDAM) نامی گائیڈڈ کٹس کا بنیادی حصہ ہیں، جنہیں امریکی فضائیہ اور قابض اسرائیل کی فضائیہ فلسطینیوں کے خلاف اپنی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال کرتی ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے متعدد ارکان نے اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہنگامی اختیارات کا سہارا لینا اسلحے کے سودوں پر کانگریس کے نگرانی کے کردار کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ ڈیموکریٹک رکن کانگریس گریگوری میکس نے کہا کہ اس طریقہ کار کا انتخاب انتظامیہ کے جنگی جواز اور زمینی حقائق کے درمیان بنیادی تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کو بائی پاس کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ انتظامیہ اس سودے کو کسی بھی قیمت پر جلد از جلد مکمل کرنے کی جلدی میں ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ