ترکیہ نے غزہ میں فوج بھیجنے پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ انقرہ غزہ میں فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم صحت اور تعلیم کے شعبوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ پولیس فورس کی تربیت میں بھی بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہم بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس کو دستے فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔” اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ترکیہ کی جانب سے غزہ میں فوج بھیجنے کی واضح طور پر مخالفت کی ہے۔ فیدان نے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا بھی حوالہ دیا جو ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر غیر ملکی افواج کی تعیناتی میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی صورتحال بدستور نازک ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اس لیے فوری، مربوط اور موثر ردعمل ضروری ہے”، اس سے قبل انڈونیشیا کہہ چکا ہے کہ وہ غزہ میں 8000 فوجی بھیج سکتا ہے۔ صدر پرابوو سوبیانتو کے ترجمان کے مطابق غزہ کے لیے ایک مجوزہ کثیر القومی امن فوج کل 20,000 فوجیوں پر مشتمل ہو سکتی ہے اور انڈونیشیا کا اندازہ ہے کہ وہ 8,000 فوجی بھیج سکتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ کسی تعیناتی کی شرائط یا آپریشن کے علاقوں پر اتفاق نہیں کیا گیا ہے۔ پرابوو کو اس ماہ کے آخر میں ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس کے لیے واشنگٹن مدعو کیا گیا تھا۔ پچھلے سال، انڈونیشیا نے غزہ امن فوج کے لیے 20,000 فوجیوں کی تعیناتی کے لیے تیار رہنے کا عہد کیا تھا وہ تعیناتی کی تصدیق سے قبل فورس کے مینڈیٹ کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار کر رہا ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ