International

تہران مظاہرین سے مذاکرات پر آمادہ ...’عدم استحکام‘ کی کوششوں پر انتباہ !

تہران مظاہرین سے مذاکرات پر آمادہ ...’عدم استحکام‘ کی کوششوں پر انتباہ !

ایران کے سرکاری پراسیکیوٹر جنرل محمد کاظم موحدی آزاد نے خبردار کیا ہے کہ اگر مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تو عدلیہ ان سے “سخت اور فیصلہ کن” انداز میں نمٹے گی۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک دن قبل حکومت نے مظاہرین سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق موحدی آزاد نے آج بدھ کے روز کہا کہ عدلیہ کے نقطہ نظر سے مہنگائی اور اخراجات زندگی کے خلاف پُر ام ن مظاہرے ایک سماجی حقیقت ہیں جنہیں سمجھا جا سکتا ہے ... تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاشی احتجاج کو عوامی املاک کی تباہی، بد امنی یا بیرونی طاقتوں کے تیار کردہ منصوبوں کے لیے استعمال کیا گیا تو اس کا قانونی اور سخت جواب دیا جائے گا۔ ایران میں مہنگائی اور خراب معاشی حالات کے خلاف احتجاج کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے، جہاں تہران کے تاجروں کے بعد اب یونیورسٹی طلبہ بھی شامل ہو گئے ہیں۔ منگل کو اس احتجاج کے تیسرے دن ملک کی کم از کم دس جامعات میں طلبہ نے مظاہرے کیے، جن میں سے سات تہران میں واقع ہیں۔ اصفہان، یزد اور زنجان میں بھی تعلیمی ادارے متاثر ہوئے۔ تہران میں اہم چوراہوں اور بعض جامعات کے اطراف سکیورٹی فورسز اور ہنگامہ کنٹرول پولیس تعینات کر دی گئی، جبکہ شہر کے مرکز میں کچھ دکانیں دوبارہ کھل گئیں جو ایک دن پہلے احتجاجا بند کی گئی تھیں۔ یہ احتجاج تیزی سے گرتی ہوئی قومی کرنسی اور مغربی پابندیوں کے باعث معاشی صورتحال کی خرابی کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر بیان میں کہا کہ انہوں نے وزیر داخلہ کو ہدایت دی ہے کہ مظاہرین کے “جائز مطالبات” کو سننے کے لیے ان کے نمائندوں سے بات چیت کی جائے، تاکہ حکومت ذمہ داری کے ساتھ مسائل کا حل نکال سکے۔ انہوں نے تاجروں کے لیے عارضی ٹیکس اقدامات کی تجویز بھی دی۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ احتجاج 2022 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے وسیع مظاہروں کے مقابلے میں محدود ہے۔ ایران کی معیشت طویل عرصے سے مغربی پابندیوں کی زد میں ہے، اور حالیہ مہینوں میں ریال کی قدر میں شدید کمی کے باعث مہنگائی اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک مظاہرہ کرنے والے دکان دار نے کہا کہ انہیں محسوس ہوا کہ اپنے غصے کا اظہار کرنا ضروری ہو گیا تھا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments