International

تہران ایٹم بم بنانے سے محض ایک ہفتہ دور ہے:اسٹیوویٹکوف

تہران ایٹم بم بنانے سے محض ایک ہفتہ دور ہے:اسٹیوویٹکوف

ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی مذاکرات کے نئے دور کے انتظار کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تہران کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ بہتر رویہ اختیار کرے گا۔ ویٹکوف نے ’ فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایٹمی مذاکرات کے دوران ایرانی فریق پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ویٹکوف نے کہا کہ ایران شاید ایٹم بم بنانے سے ایک ہفتہ دور ہے اور ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی سویلین ایٹمی مقاصد سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکی ایلچی نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر حیران ہیں کہ ایرانیوں نے شدید دباؤ کے باوجود ابھی تک ہتھیار کیوں نہیں ڈالے۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے گذشتہ روز ہفتے کو اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کے تناظر میں عالمی قوتوں کے دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ملک اگلے دو روز کے دوران ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق کو کسی معاہدے یا حل کا مسودہ پیش کرے گا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ عرصے کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی اور ایران پر ممکنہ فضائی حملے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے جو کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ امریکی صدر نے رواں برس جنوری کے آغاز میں ان احتجاجی مظاہروں کو دبانے کے لیے ایرانی حکومت کی جانب سے کی جانے والی سفاکیت کے جواب میں حملوں کی دھمکی دی تھی جو پورے ملک میں پھیل گئے تھے تاہم بعد میں وہ اس سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ حالیہ عرصے میں انہوں نے اپنی فوجی دھمکیوں کو ایران کے ایٹمی پروگرام کے خاتمے کے مطالبات سے جوڑ دیا ہے اور نظام کی تبدیلی کا خیال بھی پیش کیا ہے لیکن انہوں نے یا ان کے معاونین نے یہ واضح نہیں کیا کہ فضائی حملے اس ہدف کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments