International

تمام پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں ایران افزودہ یورینیئم ختم کرنے کو تیار ہے: جوہری سربراہ

تمام پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں ایران افزودہ یورینیئم ختم کرنے کو تیار ہے: جوہری سربراہ

ایران کے جوہری ادارے کے سربراہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایران اپنے افزودہ کردہ یورینیئم کو ختم کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ ایران پر عائد کردہ تمام پابندیاں ختم کر دی جائیں۔ انہوں نے اس امر کا اظہار امریکہ کے ساتھ دوبارہ ایران کے مذاکرات شروع ہونے کے بعد کیا ہے۔ جوہری ادارے کے سربراہ نے کہا حتمی بات یہ ہے جو اس سوال پر کہی جا رہی ہے کہ کیا ایران 60 فیصد تک افزودہ کیا ہوا یورینیئم ختم کر دے گا۔ انہوں نے کہا اس کا انحصار ان تمام پابندیوں کے ہٹائے جانے پر ہے جو ایران پر لگائی گئی ہیں۔ جوہری ادارے کے سربراہ محمد اسلامی کا یہ اعلان ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ارنا' نے رپورٹ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس موقع پر یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا یہ مطالبہ امریکہ کی طرف سے ایران پر عائد کردہ پابندیوں کے حوالے سے ہے یا ان تمام پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ہے جو امریکہ کے علاوہ اس کے باقی اتحادیوں نے بھی عائد کر رکھی ہیں۔ افزودہ یورینیئم کے تحلیل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے دوسرے ایسے مواد میں شامل کر دیا جائے تاکہ اس کی افزودگی کی سطح کم ہو جائے۔ اس طرح افزودہ ہو چکی یورینیئم اس سطح پر نہیں رہے گی جو ہتھیاروں کی تیاری یا کسی خطرے کی سطح پر ہو سکتی ہے۔ امریکہ و اسرائیل کے پچھلے سال ماہ جون میں کیے گئے جنگی حملوں سے پہلے ایران یورینیئم کو 60 فیصد تک افزودہ کر چکا تھا۔ جو کہ اس کی طے شدہ افزودگی کی سطح سے زیادہ ہے۔ طے شدہ افزودگی کی سطح 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کے تحت متعین کی گئی تھی جس معاہدے کو بعدازاں صدر ٹرمپ نے 2018 میں ختم کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے حوالے سے واچ ڈاگ ادارے کے مطابق ایران واحد غیر جوہری ملک ہے جس نے یورینیئم کو 60 فیصد تک افزودہ کر لیا ہے۔ یہ بھی ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ ایران نے جنگ سے پہلے 400 کلوگرام افزودہ یورینیئم کہاں محفوظ کی ہے۔ اس 400 کلوگرام افزودہ کی گئی یورینیئم کا معائنہ پچھلے سال اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق اگر ایران یورینیئم کے اس ذخیرے کو 90 فیصد تک افزودہ کر لیتا ہے تو وہ 9 جوہری بموں سے زیادہ بم تیار کر سکے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ ایک سے زائد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران پر یورینیئم افزودگی کے حوالے سے مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ وہ 2015 میں طے کی گئی سطح کو بھی قابل قبول نہیں قرار دیتی۔ ایران کا موقف یہ رہا ہے کہ اسے سول جوہری توانائی کے لیے یہ حق حاصل ہے کہ وہ یورینیئم افزودہ کرے اور یہ حق 'این پی ٹی' نے تسلیم کیا ہے جس پر 190 ملکوں کے دستخط ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments