ایران کے سابق صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ جنگ میں کامیابی کو صرف حملے کا مؤثر جواب دینے یا اسے پسپا کرنے تک محدود نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ اس کا مقصد پائیدار سلامتی کا قیام، مستقبل میں جارحیت کے امکانات کو کم کرنا اور ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہونا چاہیے۔
حسن روحانی کا یہ بیان اس تنقید اور احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے جو ان کے حالیہ ریمارکس کے ردِعمل میں کیے گئے تھے۔
سابق ایرانی صدر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گفتگو کا مقصد قومی اہداف کے حصول کے لیے عوامی حمایت کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا، نہ کہ جارحیت کے خلاف دفاع کے لیے کسی ریفرنڈم یا عوامی رائے شماری کی تجویز دینا۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ ان کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کے بقول، ’میں نے نہ ریفرنڈم کا ذکر کیا اور نہ ہی رائے شماری کی بات کی۔‘
حسن روحانی نے کہا کہ ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا اور جب ملک پر حملہ کیا جائے تو اس کا دفاع کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، ’یہ ہمارے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔‘
سابق صدر نے مزید کہا کہ وہ دراصل اس نکتے کی طرف توجہ دلانا چاہتے تھے کہ طویل المدتی قومی اہداف، جن میں ایران کی طاقت، خوشحالی، امن، قومی یکجہتی اور بین الاقوامی مقام کا استحکام شامل ہے، وسیع عوامی حمایت کے بغیر حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
حسن روحانی نے حال ہی میں ’باعزت طریقے سے جنگ کے خاتمے‘ پر بھی زور دیا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’بظاہر کچھ لوگ مذاکرات سے نفرت کرتے ہیں۔‘
ان کے مطابق، ’ہمیں عوام کی بھاری اکثریت کی خواہشات کے مطابق وقار کے ساتھ جنگ کا خاتمہ کرنا چاہیے تاکہ ملک کی تعمیرِ نو کی جا سکے اور ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔‘
ان بیانات کے بعد حکومت کے حامی حلقوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ حالیہ دنوں میں بعض مظاہرین سابق صدر کے گھر کے باہر جمع ہوئے اور ان کے خلاف کارروائی اور ’مقدمہ چلانے‘ کا مطالبہ بھی کیا۔
ایران کے سابق صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ جنگ میں کامیابی کو صرف حملے کا مؤثر جواب دینے یا اسے پسپا کرنے تک محدود نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ اس کا مقصد پائیدار سلامتی کا قیام، مست...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments