نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ کسی گرفتار شخص کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی آئینی طور پر مقررہ 24 گھنٹے کی مدت پولیس کی جانب سے باضابطہ گرفتاری کے وقت سے نہیں، بلکہ اسے حراست میں لیے جانے کے لمحے سے شروع ہوگی۔ جسٹس اجل بھوئیاں اور جسٹس اتل ایس چندرکر پر مشتمل بنچ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 22(2) کے مقصد کے لیے ’گرفتاری‘ اور ’حراست‘ کے درمیان مصنوعی فرق نہیں کیا جا سکتا۔ بنچ کے مطابق ایسی کوئی بھی تشریح آئینی اصولوں کے خلاف ہوگی جس کے تحت پولیس کو باضابطہ گرفتاری سے پہلے حراست میں گزارے گئے وقت کو 24 گھنٹے کی مدت سے خارج کرنے کی اجازت مل جائے۔
بنچ نے کہا، ’’یہ تصور کہ 24 گھنٹے کی مدت صرف باضابطہ گرفتاری کے وقت سے شروع ہوتی ہے، آئین کے آرٹیکل 22(2) اور بھارتیہ نیائے سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 56 میں درج آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔‘‘ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 4 ملزمان کی اپیل پر آیا ہے۔ ان ملزمان نے نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکو ٹروپک سبسٹنسز (این ڈی پی ایس) ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت درج ایک مقدمے میں تریپورہ ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔ اس معاملے میں تفتیشی ایجنسی نے ملزمان کو 29 ستمبر 2025 کو دوپہر تقریباً 2 بج کر 30 منٹ پر حراست میں لیا تھا۔
اس دوران ایجنسی نے مبینہ طور پر ان کے قبضے سے 11.03 کلوگرام میتھ ایمفیٹامین کی گولیاں برآمد کی تھیں۔ عدالت نے بتایا کہ ملزمان کی باضابطہ گرفتاری 30 ستمبر 2025 کو صبح 11 بج کر 15 منٹ پر درج کی گئی اور اسی دن شام 4 بج کر 45 منٹ پر انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس طرح پہلی بار حراست میں لیے جانے کے 24 گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ بنچ نے کہا کہ تفتیشی ایجنسی نے تلاشی اور ضبطی کی کارروائی مکمل ہونے اور باضابطہ گرفتاری درج کیے جانے کے درمیان گزرنے والے 18 گھنٹوں کے وقفے کی کوئی وضاحت نہیں دی۔
عدالت نے کہا، ’’عدالتی نگرانی کے بغیر 18 گھنٹے تک حراست میں رکھنا ایک طویل مدت ہے۔ اس دوران اختیارات کے ناجائز استعمال اور من مانی کا خدشہ واضح طور پر موجود رہتا ہے۔‘‘ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 24 گھنٹے کی مدت کا حساب لگاتے وقت صرف گرفتاری کی جگہ سے مجسٹریٹ کی عدالت تک پہنچنے میں معقول طور پر درکار وقت کو ہی مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہے۔ بنچ نے واضح کیا کہ باضابطہ گرفتاری سے پہلے پوچھ گچھ، تفتیش، تلاشی یا ضبطی میں صرف ہونے والے وقت کو 24 گھنٹے کی مدت سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ آئین کا آرٹیکل 22(2) کہتا ہے کہ گرفتار اور حراست میں رکھے گئے ہر شخص کو گرفتاری کے 24 گھنٹے کے اندر قریبی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔ اس مدت میں گرفتاری کی جگہ سے عدالت تک پہنچنے کے لیے درکار ضروری وقت شامل نہیں ہوتا۔
سپریم کورٹ نے اڈیشہ ہائی کورٹ کے آریامن پٹنائک کیس، مدراس ہائی کورٹ کے کنن کیس اور کیرالہ ہائی کورٹ کے ارون کے تھامس کیس میں دی گئی تشریحات کو مسترد کر دیا۔ ان مقدمات میں باضابطہ گرفتاری سے پہلے حراست میں گزارے گئے وقت کو 24 گھنٹے کی مدت کے حساب سے خارج رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ بنچ نے کہا کہ وقت کا حساب لگاتے ہوئے گرفتاری کی جگہ سے مجسٹریٹ کی عدالت تک پہنچنے کے ضروری وقت کے علاوہ کسی اور مدت کو مستثنیٰ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی شخص کو مقررہ 24 گھنٹے سے زیادہ حراست میں رکھا جاتا ہے اور اسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا تو اسے فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔ بنچ نے کہا کہ کسی شخص کو حراست میں لینے والی اتھارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ آئینی طور پر مقررہ 24 گھنٹے کی حد کے اندر بھی کسی شخص کو ضرورت سے زیادہ وقت تک حراست میں نہ رکھا جائے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کو حراست میں لیے جانے کی اصل تاریخ اور وقت درج کرنا ہوگا اور خود اس بات کی جانچ کرنی ہوگی کہ آئینی مدت کی پابندی کی گئی ہے یا نہیں۔ بنچ نے مزید کہا کہ مجسٹریٹ کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حالات کے لحاظ سے حراست کی مدت مناسب ہے یا نہیں۔ اگر حراست کا دورانیہ ضرورت سے زیادہ ہو تو وہ ملزم کو ریمانڈ پر بھیجنے سے انکار کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا، ’’ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جانے کے وقت مجسٹریٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ حراست میں لیے جانے والے شخص کی اصل تاریخ اور وقت درج کرے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بھی جانچ کرے کہ حراست میں لیے جانے کے وقت سے 24 گھنٹے کے اندر اسے پیش کرنے کی آئینی مدت کی پابندی کی گئی ہے یا نہیں۔ اگر 24 گھنٹے کی مدت کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو متعلقہ شخص کو فوری طور پر حراست سے رہا کیا جانا چاہیے۔‘‘ بنچ نے دورانِ تفتیش حراست میں تشدد کے واقعات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیاں اکثر اس وقت ہوتی ہیں جب پولیس گرفتاری درج کرنے میں تاخیر کرتی ہے یا حراست کی طویل مدت کو پوچھ گچھ کا نام دے کر پیش کرتی ہے۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ کسی گرفتار شخص کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی آئینی طور پر مقررہ 24 گھنٹے کی مدت پولیس کی جانب سے باضابطہ گرفتاری کے ...
Source: Admin