International

سیف الاسلام قذافی کے قتل اور ان کے بیٹے کے زخمی ہونے کے بارے میں مزید انکشافات

سیف الاسلام قذافی کے قتل اور ان کے بیٹے کے زخمی ہونے کے بارے میں مزید انکشافات

قذافی خاندان کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ سیف الاسلام قذافی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے محرکات جاننے کے لیے سرکاری تحقیقات تاحال جاری ہیں، جبکہ ابھی تک ان کی لاش کو زنتان شہر سے منتقل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ان کی میت کی حوالگی اور پوسٹ مارٹم کروانے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں احمید قذافی نے بتایا کہ سیف الاسلام نے اپنی موت سے قبل حملہ آوروں کا ذاتی طور پر مقابلہ کیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس واقعے کے دوران سیف الاسلام کا بیٹا بھی زخمی ہوا ہے، تاہم ابھی تک ان کے زخموں کی نوعیت یا صحت کے حوالے سے کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں کیونکہ حملے میں ملوث اصل گروہ کے بارے میں تاحال ابہام پایا جاتا ہے۔ سیف الاسلام کے کزن نے مزید بتایا کہ گذشتہ عرصے میں سیف الاسلام پر متعدد مرتبہ قاتلانہ حملوں کی کوششیں کی گئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر کی ایک ٹیم تحقیقات کے لیے سیف الاسلام قذافی کی رہائش گاہ پہنچ گئی ہے، جبکہ اہلخانہ کے قریبی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ابھی تک اس واقعے کے پیچھے کارفرما گروہ کے بارے میں کوئی حتمی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ دریں اثنا سیف الاسلام قذافی کی سیاسی ٹیم کے ایک رکن نے مطالبہ کیا ہے کہ جسد خاکی کو حوالے کیا جائے تاکہ اس کا پوسٹ مارٹم کیا جا سکے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ میت کو منتقل کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی واقعے سے متعلق شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔ سیف الاسلام قذافی کی سیاسی ٹیم کے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مسلح افراد نے سی سی ٹی وی کیمرے معطل کرنے کے بعد ان کی رہائش گاہ پر دھاوا بولا، جس کے بعد وہاں شدید جھڑپ ہوئی، تاہم حملہ آوروں کی شناخت یا ان کے مقاصد کے بارے میں مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments