Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

سعودی فضائی دفاع کی کامیاب کارروائی، ریاض اور خمیس مشیط پر حوثیوں کے ڈرون اور میزائل مار گرائے

Admin
By Admin
Sep 27, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

سعودی فضائی دفاع کی کامیاب کارروائی، ریاض اور خمیس مشیط پر حوثیوں کے ڈرون اور میزائل مار گرائے
سعودی فضائی دفاع کی کامیاب کارروائی، ریاض اور خمیس مشیط پر حوثیوں کے ڈرون اور میزائل مار گرائے — September 27, 2026
یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے کہا ہے کہ ’سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے سنیچر کی صبح یمن کی ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت کی طرف داغے گئے دو ڈرونز اور دو بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا۔‘
عرب نیوز کے مطابق اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے علاقے کی جانب بھیجے گئے دو ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔
ترکی المالکی نے تقریباً 30 منٹ بعد بتایا کہ اتحادی فضائی دفاع نے خمیس مشیط کی جانب حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو بھی روک کر تباہ کر دیا۔ انہوں نے تقریباً 20 منٹ بعد ایک بار پھر یہ اعلان کیا کہ جنوب مغربی شہر کی جانب داغا گیا ایک اور میزائل بھی روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
سعودی سول ڈیفنس نے رات گئے خمیس مشیط اور ابہا کے لیے الرٹ جاری کیے تھے۔ یہ دونوں شہر جنوب مغربی صوبے عسیر کے بلند علاقوں میں واقع ہیں۔ تاہم ریاض کے لیے کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔
تازہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب صرف دو روز قبل اتحادی افواج نے کہا تھا کہ انہوں نے حوثیوں کی جانب سے ینبع اور مکہ مکرمہ کے جنوب مشرق میں واقع طائف کی طرف داغے گئے چھ بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے روک لیا تھا۔
حوثی باغی یمن کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں اور ملک کے بیشتر شمالی حصے پر قابض ہیں۔ انہوں نے جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد مملکت پر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ اِن حملوں میں بحیرۂ احمر میں سعودی عرب سے منسلک بحری جہاز بھی نشانہ بن رہے ہیں۔
ان حملوں نے سعودی شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ دوسری جانب ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی رسد پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، اور حوثی حملوں نے اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اِن حملوں کے باعث خلیجی ممالک سے توانائی کی برآمدات کے لیے بحیرۂ احمر کا راستہ بھی خطرات کی زد میں ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت پہلے ہی بڑے پیمانے پر متاثر ہے۔
سنیچر کو ہونے والے اِن حملوں سے چند گھنٹے قبل سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے فوجی سربراہوں نے ریاض میں ملاقات کی۔ ملاقات میں سعودی عرب کو درپیش خطرات اور خطے کی سلامتی کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
تینوں ممالک نے گزشتہ ماہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت انہوں نے کہا تھا کہ ان میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت، عسکری تعاون اور حملہ آوروں کے خلاف اجتماعی روک تھام کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے کہا ہے کہ ’سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے سنیچر کی صبح یمن کی ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت کی طرف داغے گئے دو ڈرونز اور...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn