افغانستان اور پاکستان کے درمیان منگل کو سرحدی علاقے میں شدید تناؤ دیکھنے میں آیا جب دونوں ممالک کی سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق دونوں جانب کے حکام نے تصدیق کی کہ کچھ دیر جاری رہنے والی جھڑپ کے بعد صورتحال وقتی طور پر قابو میں آ گئی ہے۔ افغان صوبہ ننگرہار کے ڈائریکٹر اطلاعات ذبیح اللہ نورانی کے مطابق پاکستانی علاقوں کی جانب سے فائر کھولا گیا جس پر افغان سرحدی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جھڑپ رک چکی ہے اور افغانستان کی طرف کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ دوسری جانب، پاکستان میں وزیراعظم آفس کے ترجمان نے افغان فورسز پر ’غیرضروری اور بلااشتعال فائرنگ‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج نے مؤثر جواب دے کر صورتحال پر قابو پایا۔ سرحدی علاقے پشاور سے ایک سکیورٹی اہلکار نے بھی بتایا کہ پاکستان میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔ یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل پاکستان نے افغانستان کے صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں فضائی کارروائیاں کی تھیں، جن کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کے مطابق کئی عام شہری مارے گئے۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے، جبکہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ آپریشن دہشت گرد گروہوں کے خلاف تھا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ