International

سر غائب، صرف جسم دفن: خامنہ ای کے خاص علی شمخانی کی تدفین موضوع بحث کیوں؟

سر غائب، صرف جسم دفن: خامنہ ای کے خاص علی شمخانی کی تدفین موضوع بحث کیوں؟

ایران اس وقت سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ کیونکہ ایک طرف اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قتل کیا جا چکا ہے، تو دوسری طرف ان کے قریبی لوگوں کے بارے میں جو معلومات سامنے آ رہی ہیں وہ خوفناک ہیں۔ 28 فروری کو جب آیت اللہ علی خامنہ ای پر حملہ ہوا تو ان کے ساتھ ان کے سب سے قریبی مشیر علی شمخانی کی بھی موت ہوگئی تھی۔ ہفتہ کو ان کے جسم کو سپردِ خاک کیا گیا، مگر صرف جسم… کیونکہ حملہ اتنا بھیانک تھا کہ علی شمخانی کا سر غائب ہو چکا تھا۔ یہ دیکھ کر وہاں موجود ہر شخص سہم گیا۔ ایران کے سرکاری اخبار کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایران انٹرنیشنل نے لکھا کہ حملے کی شدت اتنی خوفناک تھی کہ شمخانی کا جسم بری طرح مسخ ہو گیا تھا۔ ان کے سر کی کئی دنوں تک تلاش کی گئی، لیکن کافی تلاش کے باوجود ملبے سے ان کا سر برآمد نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث ان کے خاندان اور انتظامیہ کو مجبوری میں صرف ان کے جسم کو ہی دفن کرنا پڑا۔ ہفتہ کو شمالی تہران میں واقع مقدس امام زادہ صالح درگاہ میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ علی شمخانی کوئی عام رہنما یا فوجی افسر نہیں تھے، وہ ایران کے ان چند اہم اسٹریٹجسٹوں میں سے تھے جن کا اثر فوج، سفارت کاری اور ملک کی داخلی سلامتی تینوں محاذوں پر یکساں تھا۔ 29 ستمبر 1955 کو ایران کے صوبہ خوزستان کے شہر اہواز میں پیدا ہوئے شمخانی دراصل ایک ایرانی عرب خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ان کا خاندان امریکہ کے لاس اینجلس میں آباد ہو گیا تھا، لیکن شمخانی نے اپنی ثقافتی جڑوں اور نظریاتی وابستگی کی وجہ سے دوبارہ ایران واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اہواز کی یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ 1979 کے اسلامی انقلاب سے پہلے ہی وہ شاہ کی حکومت کے خلاف ایک خفیہ باغی گروہ کا حصہ بن گئے تھے۔ علی شمخانی صرف میزائلوں اور جنگ کی زبان نہیں بولتے تھے؛ وہ ایک انتہائی ہوشیار اور عملی سفارتی مذاکرات کار بھی تھے۔ اپنی موت سے بالکل پہلے تک شمخانی ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ جاری پسِ پردہ مذاکرات کی قیادت کر رہے تھے۔ ایران کی کمزور ہوتی معیشت پر لگے سخت پابندیوں کو ہٹوانے اور ایک امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے سپریم لیڈر خامنہ ای نے ان پر ہی سب سے زیادہ اعتماد ظاہر کیا تھا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments