International

سوئٹزر لینڈ بار میں آتشزدگی سے 40 افراد کیسے مرے؟ تحقیقات نے ہوش اڑا دیے

سوئٹزر لینڈ بار میں آتشزدگی سے 40 افراد کیسے مرے؟ تحقیقات نے ہوش اڑا دیے

مونٹانا : سوئٹزر لینڈ کے ایک بار میں گزشتہ دنوں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 40 افراد کی ہلاکت سے متعلق تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے سب کو چونکا دیا۔ سوئٹزرلینڈ کے ریزورٹ میں واقع بار جہاں نیو ائیر نائٹ کے موقع پر اچانک آگ لگنے سے 40 افراد جان سے کیسے چلے گئےتھے، اس بات پر شہر کرانس مونٹانا کے میئر نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2019 کے بعد سے اب تک بار کا کوئی باقاعدہ معائنہ نہیں ہوا تھا۔ میئر نکولا فیرو کے مطابق شہر کے تمام بارز میں ہر سال حفاظتی معائنہ ہونا ضروری ہے لیکن لے کانسٹی لیشن نامی اس بار میں گزشتہ 6 برس سے یہ عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کا گہرا افسوس ہے، ہمیں علم نہیں تھا کہ حفاظتی چیک مکمل نہیں ہوئے تھے۔ اگر ہمیں علم ہوتا تو ہم ضرور کارروائی کرتے۔ رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی ممکنہ وجہ چمکدار موم بتیاں (اسپارکلر کینڈلز) تھیں، جن کی چنگاری نے پہلے بار کے تہہ خانے کی چھت کو آگ لگائی، چھت پر لگایا گیا وہ فوم جو بیرونی آوازوں کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا وہ انتہائی آتش گیر مادہ ثابت ہوا جس کے بعد آگ بے قابو ہوکر پھیلتی ہی چلی گئی۔ سوئس ٹی وی چینل آر ٹی ایس کی ایک پرانی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس بار میں پہلے بھی ایسی موم بتیاں استعمال کی جاتی رہی تھیں، ویڈیو میں ایک ویٹر لوگوں کو خبردار کرتا ہے، فوم سے ہوشیار رہیں۔ میئر کے مطابق بار کا آخری حفاظتی معائنہ 2019 میں ہوا تھا۔ اس وقت چھت پر لگا فوم قابلِ قبول سمجھا گیا اور بار کے چھوٹے سائز کی وجہ سے فائر الارم لگانا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ فوم پینل کبھی باقاعدہ جانچے ہی نہیں گئے، کیونکہ حفاظتی حکام نے اسے ضروری نہیں سمجھا اب عدالت طے کرے گی کہ یہ لاپرواہی تھی یا نہیں۔ حکام بالا نے بار چلانے والے دو افراد کے خلاف غفلت کے باعث ہلاکت کے الزامات پر تفتیش شروع کر دی ہے۔ تاہم پولیس کے مطابق فی الحال انہیں گرفتار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، کیونکہ کسی کے فرار ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انتظامیہ نے حفاظتی اقدام کے پیش نظر ایک اور تفریحی مقام کو بھی عوام کیلیے بند کر دیا ہے جبکہ شہر میں تمام مقامات پر اسپارکلر موم بتیوں کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ حادثے میں 40 افراد ہلاک اور کم از کم 116 زخمی ہوئے تھے، جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی، اس پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا بار میں ضرورت سے زیادہ لوگ کیوں موجود تھے؟۔ میئر کے مطابق بار کی زیادہ سے زیادہ گنجائش 200 افراد تھی اور وہاں دو منزلوں پر ہنگامی راستے بنے ہوئے تھے، ہر ایک راستہ 100 افراد کے لیے تھا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments