Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

شمالی کوریا کے جنگی قیدیوں کی خفیہ منتقلی منظرِ عام پر لانے پر یوکرین معافی مانگے: جنوبی کوریا

Admin
By Admin
Sep 28, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

SAHLBONI LAND CSE MEIN ABHISHEK BANERJEE KE PA SUMIT ROY GIRAFTAR, APEX COURT SE NTICIPATORY BAIL HUI KHARIJ

شمالی کوریا کے جنگی قیدیوں کی خفیہ منتقلی منظرِ عام پر لانے پر یوکرین معافی مانگے: جنوبی کوریا
شمالی کوریا کے جنگی قیدیوں کی خفیہ منتقلی منظرِ عام پر لانے پر یوکرین معافی مانگے: جنوبی کوریا — September 28, 2026
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے 2 جنگی قیدیوں کی خفیہ منتقلی کا معاملہ منظرِ عام پر لا کر معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر یوکرین سے باضابطہ وضاحت اور معافی کا مطالبہ کر دیا۔

جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ یوکرین کے اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

یہ تنازع گزشتہ ہفتے اس وقت شروع ہوا جب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے انکشاف کیا کہ یوکرین نے روس کے لیے لڑتے ہوئے گرفتار ہونے والے شمالی کوریا کے 2 فوجیوں کو جنوبی کوریا منتقل کر دیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا کے فوجیوں کو زندہ گرفتار کرنا آسان نہیں تھا۔

اس انکشاف کے چند گھنٹے بعد جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں یوکرین کے اقدام پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ میں نہیں جانتا کہ یوکرین نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس حساس معاملے کو عوام کے سامنے کیوں پیش کیا۔

بعد ازاں یوکرینی صدر کے معاون دمترو لیتوین نے معاملے کی شدت کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ صدر زیلنسکی نے تو صرف فوجیوں کی جنوبی کوریا منتقلی کی تصدیق کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین ایک کھلا ملک ہے اور فوجیوں کی منتقلی کو مکمل طور پر خفیہ رکھنا غیر معمولی ہوتا۔

دوسری جانب جنوبی کوریا نے یوکرین کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے باہمی اعتماد کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

جنوبی کوریا کے سینئر صدارتی سیکریٹری برائے تعلقاتِ عامہ سونگ گی ہونگ نے اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ یوکرین کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی اور یک طرفہ طور پر حساس معلومات کو ظاہر کرنا انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرینی صدارتی دفتر کی جانب سے خفیہ معلومات سے متعلق معاہدے کی موجودگی سے انکار نے دونوں حکومتوں کے درمیان اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

سونگ گی ہونگ نے یہ بھی کہا کہ جنوبی کوریا اس معاملے میں ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات پر بھی غور کر رہا ہے۔

شمالی کوریا کے فوجی یوکرین کے قبضے میں کیسے آئے؟
یوکرینی افواج نے گزشتہ سال کے آغاز میں روس کی حمایت میں جنگ لڑنے والے شمالی کوریا کے 2 فوجیوں کو گرفتار کیا تھا۔

ان میں سے ایک فوجی نے بتایا تھا کہ وہ شمالی کوریا کے ایک جاسوسی یونٹ سے وابستہ تھا اور اسے 17 سال کی عمر میں فوج میں بھرتی کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے جنوبی کوریا کے ایک رکنِ پارلیمنٹ پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ دونوں فوجی خود جنوبی کوریا میں معمول کی زندگی گزارنے کے خواہش مند تھے۔

شمالی کوریا کے ممکنہ ردعمل پر تشویش
سیئول کی ایوا ویمنز یونیورسٹی کے پروفیسر پارک وون گون کے مطابق یوکرین کے اس انکشاف سے شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی بھی متاثر ہونے کا خدشہ
اس سفارتی تنازع کے اثرات جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے تعلقات میں کشیدگی سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔

جنوبی کوریا نے اب تک جنگ میں مصروف ممالک کو فوجی امداد فراہم کرنے سے متعلق اپنی داخلی پابندیوں کے باعث یوکرین کو مہلک ہتھیار فراہم نہیں کیے، لیکن شمالی کوریا کی جانب سے روس کی حمایت میں فوج بھیجے جانے کے بعد جنوبی کوریا میں یوکرین کو دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی کی درخواستوں پر غور کیا جا رہا تھا۔

کیونگنام یونیورسٹی کے پروفیسر لم یول چول کے مطابق حالیہ تنازع نے جنوبی کوریا اور یوکرین کے درمیان اعتماد کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال کے بعد جنوبی کوریا کی حکومت کو یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے معاملے میں زیادہ احتیاط برتنا پڑ سکتی ہے۔

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے 2 جنگی قیدیوں کی خفیہ منتقلی کا معاملہ منظرِ عام پر لا کر معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر یوکرین سے باضابطہ وضاحت اور معافی کا مطالبہ کر دیا۔...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn