اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس امر کو تسلیم کر لیا ہے کہ یو این سیکیورٹی کونسل اپنے اثرات کا استعمال جنگیں روکنے اور کشیدگی کو کم کرنے میں بروئے کار لانے میں کامیاب نہیں ہو رہی۔ انہوں نے اس امر کا اظہار ہفتہ کے روز ایران میں اسرائیلی حملوں سے پیدا شدہ صورتحال کے بعد بیروت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گوتریس کی یہ پریس کانفرنس ان کے لبنان کے دورے کے اختتام پر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جنگوں کو روکنے اور کشیدگی میں کمی کرنے میں ناکامی کی وجہ ویٹوز کا استعمال ہے۔ گوتریس کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب جب کشیدگی بڑھتی ہے اور جنگ کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو کوئی ویٹو سامنے آجاتا ہے جو سیکیورٹی کونسل کو اپنا کام کرنے سے روک دیتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ صورتحال تبدیل نہ کرنے میں بڑی وجہ ہے۔ گوتریس نے کہا سلامتی کونسل اس وقت دنیا کی نمائندگی نہیں کر رہی ہے۔ بلکہ 1945 کے بعد ہی دنیا کی نمائندگی نہ کرنے کی صورتحال میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ یو این سیکرٹری جنرل کا یہ بیان ان کے لبنانی دورے کے اختتام پر آیا جب اسرائیلی فوج بیروت کو نشانہ بنا رہی ہے اور حزب اللہ و اسرائیل کے درمیان ایک مرتبہ پھر جنگی صورتحال بھڑک چکی ہے۔ اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے لبنانی شہریوں کو پھر سے نقل مکانی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ خیال رہے امریکہ و اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر اور ان کے اہلخانہ ہلاک ہوگئے۔ جس کا لبنان میں بھی گہرا اور سخت ردعمل سامنے آنا شروع ہوگیا۔ سیکرٹری جنرل نے کہا لبنانی عوام نے جنگ کا انتخاب نہیں کیا بلکہ انہیں جنگ میں گھسیٹا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تنازعے کا جنگی حل نہیں ہے۔ بلکہ صرف سفارتکاری و مکالمے کے ذریعے ہی اقوام متحدہ کے چارٹر اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کو نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں ایک رابطہ کار متعین کر کے سفارتی راستہ فراہم کر رکھا ہے۔ اپنے دورہ لبنان کے دوران انتونیو گوتریس نے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی اور کشیدگی کو فوری کم کرنے کے لیے کوششوں پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خصوصی نمائندے اور رابطہ کار اس سلسلے میں ہر وہ کوشش کر رہے ہیں جو ممکن ہے اور وہ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ انہیں مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا میں نے یہاں نقل مکانی پر مجبور ہونے والے لوگوں کے بیانات سنے ہیں اور میں بہت دکھی ہوا ہوں۔ یہ لازمی ہے کہ اسرائیل لبنان کی علاقائی خودمختاری کا احترام کرے اور جنگ کو روکا جائے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ