جنوبی کوریا میں شرحِ پیدائش بڑھانے کے لیے ’ویتنامی یا سری لنکن نوجوان خواتین درآمد‘ کرنے کی متنازع تجویز دینے والے علاقائی عہدیدار کو اپنی ہی سیاسی جماعت کی رُکنیت سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ گذشتہ ہفتے ایک ٹاؤن ہال اجلاس میں جنوبی جندو کاؤنٹی کے سربراہ کِم ہی سو نے کہا تھا کہ ان خواتین کی شادیاں ’دیہی علاقوں میں نوجوان مردوں‘ سے کروائی جا سکتی ہیں۔ یہ متنازع تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب جنوبی کوریا میں شرحِ پیدائش میں بڑی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اگلے 60 برسوں میں اس ملک کی آبادی آدھی رہ جائے گی۔ تاہم کِم کا یہ بیان ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد انھیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ویتنام کی جانب سے بھی سفارتی طور پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا، جس کے بعد انھیں حکمراں ڈیموکریٹک پارٹی نے جماعت سے باہر نکال دیا ہے۔ کِم نے معذرت کر کے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی تھی، تاہم انھیں ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا۔ ساؤتھ جیئولا صوبے کی جانب سے بھی کِم کے ’غیرمناسب جملوں‘ پر باضابطہ طور پر معافی مانگی گئی ہے، جو ’ویتنامی لوگوں اور خواتین کے لیے تکلیف کا باعث بنے۔‘ سری لنکا میں حکام نے اب تک اس موضوع پر بات نہیں کی ہے۔ تاہم ویتنام کے سفارتخانے نے فیس بک پر اپنے ایک بیان میں اس کی مذمت کی تھی۔ اس معاملے کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کی سپریم کونسل نے متفقہ طور پر کِم کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ