International

شرح پیدائش بڑھانے کے لیے ’ویتنامی یا سری لنکن نوجوان خواتین درآمد‘ کرنے کی تجویز پر سرکاری اہلکار پارٹی سے برطرف

شرح پیدائش بڑھانے کے لیے ’ویتنامی یا سری لنکن نوجوان خواتین درآمد‘ کرنے کی تجویز پر سرکاری اہلکار پارٹی سے برطرف

جنوبی کوریا میں شرحِ پیدائش بڑھانے کے لیے ’ویتنامی یا سری لنکن نوجوان خواتین درآمد‘ کرنے کی متنازع تجویز دینے والے علاقائی عہدیدار کو اپنی ہی سیاسی جماعت کی رُکنیت سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ گذشتہ ہفتے ایک ٹاؤن ہال اجلاس میں جنوبی جندو کاؤنٹی کے سربراہ کِم ہی سو نے کہا تھا کہ ان خواتین کی شادیاں ’دیہی علاقوں میں نوجوان مردوں‘ سے کروائی جا سکتی ہیں۔ یہ متنازع تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب جنوبی کوریا میں شرحِ پیدائش میں بڑی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اگلے 60 برسوں میں اس ملک کی آبادی آدھی رہ جائے گی۔ تاہم کِم کا یہ بیان ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد انھیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ویتنام کی جانب سے بھی سفارتی طور پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا، جس کے بعد انھیں حکمراں ڈیموکریٹک پارٹی نے جماعت سے باہر نکال دیا ہے۔ کِم نے معذرت کر کے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی تھی، تاہم انھیں ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا۔ ساؤتھ جیئولا صوبے کی جانب سے بھی کِم کے ’غیرمناسب جملوں‘ پر باضابطہ طور پر معافی مانگی گئی ہے، جو ’ویتنامی لوگوں اور خواتین کے لیے تکلیف کا باعث بنے۔‘ سری لنکا میں حکام نے اب تک اس موضوع پر بات نہیں کی ہے۔ تاہم ویتنام کے سفارتخانے نے فیس بک پر اپنے ایک بیان میں اس کی مذمت کی تھی۔ اس معاملے کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کی سپریم کونسل نے متفقہ طور پر کِم کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments