امریکہ نے ایران میں جاری مظاہروں کے دوران پیدا کشیدگی کے باعث صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے اگلے مرحلے کی صورت اپنا بحری بیڑہ 'ابراہم لنکن' مشرق وسطی پہنچا دیا ہے۔ 'ابراہم لنکن' نامی یہ بحری بیڑہ امریکہ کے چند بڑے اور جدید ترین طیارہ بردار جنگی جہازوں میں سے ایک اہم سٹرائیک گروپ ہے۔ اس کے مشرق وسطیٰ پہنچنے کے حوالے سے امریکی فوج نے تصدیق کی ہے۔ یوں مشرق وسطیٰ میں حملوں اور بمباری کرنے کی صلاحیت کو ڈرامائی حد تک بڑھا لیا ہے۔ اس طیارہ بردار کے خطے میں موجود نہ ہونے کے دوران چند دن پہلے امریکی صدر نے ایران پر حملے کے اپنے پہلے سے جاری دھمکیوں کے سلسلے اور ارادے کوکسی حد تک واپس لینے کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا انہوں نے اس سلسلے میں خو کو قائل کرکے ایک مشکل کام کیا ہے۔ تاہم اس وقت بھی ایران پر حملے کی آپشن کو مکمل طور ختم نہیں کیا تھا۔ پیر کے روز امریکی سنٹرل کمانڈ سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے بحری بیڑے کے مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تعیناتی علاقے میں امریکی افواج کی موجودگی کے باعث ہے اور خطے میں علاقائی سلامتی و استحکام میں کردار ادا کرے گے۔ یاد رہے ایران میں دکانداروں اور تاجروں نے مہنگائی اور افراط زر کے انتہائی بڑھ جانے اور ایرانی ریال کی قدر انتہائی کم ہو جانے کے خلاف احتجاج 28 دسمبر کو شروع کیا تھا۔ اب 26 جنوری کو ابراہم لنکن نامی امریکی بحری بیڑے کو مشرق وسطیٰ میں اسی تناظر میں لانے کی تصدیق کی گئی یے۔ دکانداروں اور تاجروں کا مہنگائی کے خلاف ایران میں یہ احتجاج اس حوالے سے بھی غیر معمولی تھا کہ مہنگائی بڑھانے میں حصہ ڈالنے والے تاجر عام طور پر مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے والے نہیں ہوتے۔ دوسری طرف امریکہ اور یورپی ممالک ایرانی ریال کی قدر کو اقتصادی پابندیوں کے ذریعے اس حال تک پہنچانے کے باوجود ایرانی تاجروں اور مظاہرین کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ جبکہ ایرانی رجیم ان مظاہرین کو کچلنے کے در پے ہے۔ ایران کے یہ مظاہرے ایران کی گلیوں تک پھیل گئے۔ انسانی حقوق کی حامی اور مغربی ملکوں سے تعلق رکھنے والی تنظیموں نے ایرانی سیکیورٹی فورس کے استعمال پر سخت تنقید کی ہے اور اب تک ہزاروں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی ہے۔ ایرانی رجیم کے لیے ان مظاہروں کو اب تک کا ہنگامہ آرائی کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ کہ ان مظاہرین کی مدد کرنے کے لیے ایران کے موجودہ نظام کے مخالفین بھی نکل آئے ہیں۔ ایرانی مظاہرین کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنی مدد ان کے قریب تر پہنچنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ بلا شبہ ماہ جون کے دوران پچھلے سال امریکی و اسرائیلی جنگ کے بعد ایران کی حالت پہلے سے بھی زیادہ پتلی ہوگئی ہے۔ اگرچہ ایرانی حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکی حملے کا ہمہ گیر جواب دینے کے لیے ایرانی سیکیورٹی فورسز کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں اور حملے کے جواب میں خطے میں امریکہ کی ہر طرح کی موجودگی اور انسٹالیشنز ایرانی میزائلوں کے نشانے پر ہوں گی۔ ادھر اسرائیل نے بھی ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے بعد ایران کی طرف سے ایران پر میزائل حملوں کی روک تھام کے لیے اپنی افواج کو غیر علانیہ الرٹ پر کر دیا یے۔ کیونکہ ایرانی میزائل حملوں سے اسرائیلی عوام میں ایک بار پھر بہت زیادہ خوف اور اضطراب پیدا ہو سکتا ہے اور سرمائے سمیت بہت سے اسرائیلی واپس اپنے اصلی وطنوں کی طرف جانے کا سوچ سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے ایران کے بارے میں اپنے حملے کے التوا کے لیے چند روز پہلے جو موقف اختیار کیا تھا وہ 800 افراد کی ایران میں پھانسیاں رکوانے کے حوالے سے تھا ۔ تاہم ایرانی حکام اس طرح کے کسی واقعے کی تردید کرتے ہیں۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران نے 800 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی تھی نہ سزا واپس لینے کی کسی کو یقین دہانی کرائی ہے۔ ایرانی دفاع اور خارجہ امور سے متعلق حکام امریکی حملے کی صورت اپنی مکمل تیاری کا دعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امریکہ نے حملہ کیا تو پورا خطہ تباہی کی زد میں ہوگا۔ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اپنی دفاعی اہلیت کے حوالے سے پوری طرح پر اعتماد ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا امریکہ کا طیارہ بردار ابراہم لنکن کی خطے میں آمد ایرانی عزم و ارادے اور سلامتی کو متزلزل نہیں کر سکتی۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ