Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

سنبھل تشدد معاملہ: مُلّا افروز کی ’این ایس اے‘ حراست منسوخ، سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ کا لگایا جرمانہ

Admin
By Admin
Sep 29, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BAGRESHWAR BABA KI TASVEER JALANE PAR CM SUVENDU ADHIKARI SAKHT, KOLKATA POLICE KO ARRSTE KA DIYA HUKM

سنبھل تشدد معاملہ: مُلّا افروز کی ’این ایس اے‘ حراست منسوخ، سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ کا لگایا جرمانہ
سنبھل تشدد معاملہ: مُلّا افروز کی ’این ایس اے‘ حراست منسوخ، سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ کا لگایا جرمانہ — September 29, 2026
سنبھل تشدد معاملے میں سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت پر سخت کارروائی کی ہے۔ سپریم کورٹ نے سنبھل تشدد معاملے کے ملزم مُلّا افروز کی ’نیشنل سیکورٹی ایکٹ‘ (این ایس اے) کے تحت ’پریوینٹو ڈیٹینشن‘ منسوخ کر دی ہے۔ عدالت نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی منسوخ کر دیا، جس میں مُلّا افروز کی حراست کو برقرار رکھا گیا تھا۔ اتنا ہی نہیں سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ پورے معاملے میں سب سے اہم سوال پولیس حراست میں دیے گئے مبینہ اعترافی بیان کو لے کر تھا۔

مُلّا افروز کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلیل دی گئی تھی کہ اس کی گرفتاری پولیس حراست میں دیے گئے اعترافی بیان کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ درخواست گزار کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ’پریوینٹو ڈیٹینشن‘ کے لیے صرف متعدد مجرمانہ مقدمات کا موجود ہونا کافی نہیں ہو سکتا۔ اتر پردیش حکومت کی جانب سے دلیل دی گئی کہ دستیاب مواد سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ مُلّا افروز مستقبل میں تشدد کو ہوا دے سکتا ہے یا امن و سلامتی کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن سپریم کورٹ نے پولیس حراست میں دیے گئے مبینہ قبول نامے کو ’پریوینٹو ڈیٹینشن‘ کی درست بنیاد ماننے سے انکار کر دیا۔

سپریم کورٹ نے صاف کہا کہ پولیس حراست میں دیے گئے مبینہ قبول نامے کی بنیاد پر این ایس اے حراست کا حکم نہیں دیا جا سکتا ہے۔ یہ معاملہ 24 نومبر 2024 کو سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے عدالتی سروے کے دوران ہوئے تشدد سے متعلق ہے۔ تشدد میں 4 افراد کی موت ہوئی تھی۔ مُلّا افروز کو اس تشدد کا مبینہ مرکزی ملزم بتایا گیا تھا۔ تشدد کے تقریباً 54 دنوں کے بعد اسے گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں اسے الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی تھی۔ اس کے باوجود 13 اکتوبر 2025 کو اس کے خلاف نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت ’پریوینٹو ڈیٹینشن‘ کا حکم جاری کیا گیا۔

فیصلہ سنانے کے وقت جسٹس دتا نے اپنے لا کلرک کو خراج عقیدت پیش کیا، جن کا 27 ویں سالگرہ سے قبل ہی انتقال ہو گیا تھا۔ جسٹس دتا نے یہ فیصلہ ان کے نام وقف کیا۔ قابل ذکر ہے کہ 8 ستمبر کو فیصلہ محفوظ رکھتے وقت بنچ نے مبینہ حراستی اعترافی بیان کی مطابقت اور اہمیت پر سوال اٹھائے تھے، اور پوچھا تھا کہ کیا ایسا اعترافی بیان پریوینٹو ڈیٹینشن کا حکم جاری کرنے کے لیے ضروری شخصی اطمینان کی بنیاد بن سکتا ہے۔

سنبھل تشدد معاملے میں سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت پر سخت کارروائی کی ہے۔ سپریم کورٹ نے سنبھل تشدد معاملے کے ملزم مُلّا افروز کی ’نیشنل سیکورٹی ایکٹ‘ (این ایس اے) کے تحت ’پریوینٹو...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn