بنگلہ دیشی شدت پسند تنظیموں کے ’سلیپر سیل‘ کی تلاش میںبنگال میں مختلف مقامات پر این آئی اے کے چھاپے
بنگلہ دیشی شدت پسند تنظیموں سے وابستہ افراد کی تلاش کے لیے اب قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ منگل کی صبح سویرے سے ہی تحقیقاتی افسران نے ریاست کے کئی اضلاع میں چھاپے مارے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بنیادی طور پر القاعدہ کی شاخ کے طور پر کام کرنے والی ’جماعت المجاہدین بنگلہ دیش‘ اور ’انصاراللہ بنگلہ ٹیم‘ جیسی بنگلہ دیش کی ممنوعہ شدت پسند تنظیموں کے مغربی بنگال میں موجود سلیپر سیل کی تلاش کے لیے یہ تلاشی مہم چلائی جا رہی ہے۔
تفتیش کے سلسلے میں منگل کی صبح سے ریاست میں کم از کم پانچ مقامات پر کارروائی شروع کی گئی ہے۔ این آئی اے کی ایک ٹیم جنوبی دیناج پور کے ہری رام پور میں بنشی ہاری بلاک کے مونڈے ہیر گاو¿ں پہنچی ہے۔ وہاں میزان الرحمن نامی شخص کے گھر پر تلاشی جاری ہے۔ مشرقی بردوان کے منگل کوٹ کے پالیش گرام میں بھی تلاشی چل رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک شخص کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ جنوبی 24 پرگنہ کے ڈائمنڈ ہاربر میں بھی این آئی اے کی ایک اور ٹیم پہنچ چکی ہے۔
رواں سال کے آغاز میں آسام میں ’جماعت المجاہدین‘ کی ذیلی تنظیم کے طور پر شناخت کی جانے والی ’امام محمود کی قافلہ‘ نامی تنظیم کے کئی ارکان کو آسام پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ’جماعت المجاہدین بنگلہ دیش‘ کی اس ذیلی تنظیم نے آسام کے علاوہ پڑوسی ریاستوں مغربی بنگال اور تریپورہ میں بھی اپنا نیٹ ورک پھیلا رکھا ہے۔
اسی معاملے کی تفتیش میں شاد رادی کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ الزام ہے کہ وہ بنگلہ دیش سے ہندوستان آیا اور اپنے رشتہ داروں کی مدد سے مرشدآباد میں اپنا ٹھکانہ بنایا۔ اس نے مبینہ طور پر ہندوستان کی ووٹر فہرست میں بھی اپنا نام درج کرا لیا تھا۔
بنگلہ دیشی شدت پسند تنظیموں کے ’سلیپر سیل‘ کی تلاش میںبنگال میں مختلف مقامات پر این آئی اے کے چھاپے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments