International

’ہرزوگ کو گرفتار کرو‘: آسٹریلیا میں اسرائیلی صدر کے خلاف احتجاج اور مظاہرین کی گرفتاریاں

’ہرزوگ کو گرفتار کرو‘: آسٹریلیا میں اسرائیلی صدر کے خلاف احتجاج اور مظاہرین کی گرفتاریاں

آسٹریلوی پولیس نے سڈنی میں اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کے دورے کے موقع پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف پیپر سپرے کا استعمال کیا ہے۔ پیر کو سڈنی میں متعدد افراد کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں۔ اس سے قبل اسرائیلی صدر نے بونڈائی بیچ پر یروشلم سے لائے گئے دو پتھر اور ایک پھولوں کی چادر رکھی تھی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں دسمبر میں ایک فائرنگ کے واقعے کے دوران ایک 10 سالہ بچی سمیت 15 افراد ہلاک ہوِئے تھے۔ آسٹریلیا کے سینیئر یہودی رہنماؤں کو امید تھی کہ آئزک ہرزوگ کا چار روزہ دورہ ان کی غمزدہ برادری کے لیے آرام کا باعث بنے گا لیکن دیگر لوگوں نے اسرائیلی رہنما کی آمد کی مخالفت کی تھی اور ان پر غزہ میں نسل کشی کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ اسرائیلی رہنما اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ سڈنی میں احتجاجی مظاہرہ فلسطین ایکشن گروپ کے زیرِ اہتمام ہوا تھا۔ پیر کو اس احتجاجی مظاہرے میں لوگ فلسطینی سکارف اور ہاتھ میں بورڈز اُٹھائے شامل ہوئے تھے۔ ایک بورڈ پر لکھا تھا: ’میں یہود مخالف نہیں ہوں بلکہ نسل کشی کا مخالف ہوں۔‘ ایک اور پوسٹر پر لکھا تھا: ’ہرزوگ کو گرفتار کرو۔‘ جب اس ریلی کا اختتام ہوا تو مظاہرین نے نعرے لگائے کہ ’ہمیں مارچ کرنے دیں‘ لیکن وہاں موجود پولیس کی بھاری نفری نے انھیں روک لیا۔ اس وقت کشیدگی کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیپر سپرے کا استعمال کیا۔ ایک ایسا ہی احتجاجی مظاہرہ میلبرن میں بھی ہوا۔ خیال رہے آئزک ہرزوگ آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھنی البانیز کی دعوت پر آسٹریلیا آئے ہیں۔ بونڈائی بیچ پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’جب ایک یہودی کو تکلیف پہنچتی ہے تو تمام یہودی اسے محسوس کرتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ ’غمزدہ خاندانوں کو تسلی دینے اور سینے سے لگانے‘ آسٹریلیا آئے ہیں۔

Source: scoial media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments