یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ڈیووس میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ روسی جارحیت کے خلاف ٹریبونل کے قیام پر ’کئی ملاقاتوں‘ کے باوجود ’کوئی حقیقی پیش رفت‘ نہیں ہو سکی ہے۔ انھوں نے یورپ کا شکریہ ادا کیا کہ روسی اثاثے منجمد کیے گئے، لیکن کہا کہ جب ان اثاثوں کو یوکرین کے دفاع کے لیے استعمال کرنے کا وقت آیا تو فیصلے پر عملدرآمد ’روک دیا گیا‘۔ زیلنسکی نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ معاملہ ’وقت کا ہے یا سیاسی عزم کا‘۔ انھوں نے سکیورٹی گارنٹی پر کام کرنے والے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور بعد میں برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمینوئل میخواں کا افواج کے حوالے سے ان کے وعدوں پر شکریہ ادا کیا۔ زیلنسکی نے کہا کہ ’ہر کوئی بہت مثبت ہے، لیکن۔ ہمیشہ لیکن۔ لیکن صدر ٹرمپ کی بیک سٹاپ کی ضرورت ہے۔‘ یہ بیان ان کے اس خدشے کو ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ عالمی حمایت کے باوجود یوکرین کو فیصلہ کن اقدامات کی کمی کا سامنا ہے۔
Source: Social Media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ