ماسکو: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ انہوں نے الاسکا مذاکرات کے دوران یوکرین سے متعلق امریکا کی تجویز کو قبول کر لیا ہے اور اگر فریقین آسان اور قابل فہم رویے کا مظاہرہ کریں تو یہ مسئلہ حل ہوجا نا چاہیے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹی وی برکس انٹرنیشنل نیٹ ورک کو انٹرویو کے دوران روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صدر پیوٹن نے بارہا کہا ہے کہ روس کے لیے بنیادی اہمیت یوکرین کے مسئلے کی ہے۔ اس کے لئے یہ غیر متعلقہ ہے کہ یوکرین یا یورپ میں کیا کہا جائے گا کیونکہ ہم یورپی یونین کی زیادہ تر حکومتوں میں گہری جڑیں رکھنے والے روسو فوبیا کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے لیے امریکا کا موقف زیادہ اہم تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی تجاویز کو قبول کرنے کے بعد ہم نے بنیادی طور پر یوکرین کے مسئلے کو حل کرنے اور جامع، وسیع، باہمی طور پر فائدہ مند تعاون کی طرف بڑھنے کا کام پورا کیا۔ تاہم عملی طور پر اس کے برعکس ہوتا ہے، نئی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بین الاقوامی پانیوں میں ٹینکرز پر حملے کیے جاتے ہیں، اور بھارت اور دیگر شراکت داروں کی سستی روسی توانائی خریدنے کے لیے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ جب کہ یورپ نے طویل عرصے سے اس طرح کی خریداریوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس سے وہ امریکی قدرتی گیس زیادہ قیمت پرخریدنے پر مجبور ہیں۔ اس سب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اقتصادی دائرہ کار میں امریکا نے اپنے واضح اہداف کا اعلان کر رکھا ہے اور یہ ہدف اقتصادی غلبہ حاصل کر نا ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ