یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ چار سالہ جنگ میں اب تک 55 ہزار یوکرینی فوجی میدانِ جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔ زیلنسکی نے یہ اعداد و شمار فرانسیسی ٹی وی چینل فرانس 2 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بڑی تعداد میں افراد سرکاری طور پر لاپتا قرار دیے گئے ہیں۔ کئیو اور ماسکو دونوں ہی وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کے نقصانات کے تخمینے جاری کرتے رہے ہیں لیکن اپنی ہلاکتوں کی تفصیلات شاذ و نادر ہی سامنے لاتے ہیں۔ تاہم بی بی سی نے روس کی جانب سے لڑائی میں مارے جانے والے تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد کے ناموں کی تصدیق کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں، جو 22 فروری 2022 کو روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں روسی اور یوکرینی مذاکرات کاروں سے دوسرے روز بھی بات چیت کی تاکہ امریکی تجویز کردہ امن منصوبے کی تفصیلات طے کی جا سکیں۔ یہ دوسرا سہ فریقی اجلاس تھا اور سٹیو وٹکوف نے ایکس پر لکھا کہ بات چیت ’تفصیلی اور نتیجہ خیز‘ رہی ہے لیکن ’اب بھی کافی کام باقی ہے۔‘ سب سے مشکل مسئلہ علاقہ ہے، کیونکہ روس مطالبہ کر رہا ہے کہ یوکرین مشرقی صنعتی خطے دونباس کے باقی حصے بھی اس کے حوالے کرے، جو فی الحال ماسکو کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ ٹرمپ اکثر کہتے ہیں کہ ہر ہفتے ہزاروں یوکرینی اور روسی بلا ضرورت ہلاک ہو رہے ہیں۔ مغربی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی تخمینے جاری کرتی ہیں، لیکن ان کی تصدیق ممکن نہیں۔ زیلنسکی نے آخری بار دسمبر 2024 میں یوکرین کی ہلاکتوں کے بارے میں بتایا تھا، جب انھوں نے تعداد 43 ہزار بتائی تھی۔ فرانسیسی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’یوکرین میں سرکاری طور پر میدانِ جنگ میں مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد۔۔ چاہے وہ پیشہ ور ہوں یا جبری بھرتی شدہ ۔۔ 55 ہزار بنتی ہے۔‘ زیلنسکی کے مطابق سرکاری طور پر بتائی گئی تعداد یوکرین کے مجموعی نقصانات سے کہیں کم ہے۔ انھوں نے خود کہا کہ ’بڑی تعداد میں لوگ‘ لاپتا ہیں۔ چھ ماہ قبل یوکرین کی وزارتِ داخلہ نے 70 ہزار سے زائد افراد کو سرکاری طور پر لاپتا قرار دیا تھا، جن میں فوجی اور عام شہری دونوں شامل ہیں، لیکن اس کی تفصیل کبھی نہیں دی جاتی۔ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ہلاکتوں کے بارے میں معلومات نہایت حساس ہیں اور یہ مورال پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یوکرین کے قبرستانوں میں فوجی قبریں نمایاں ہیں، جن پر نیلے اور پیلے قومی پرچم لگے ہوتے ہیں اور اکثر کتبوں پر فوجی کی وردی میں تصویر کندہ ہوتی ہے۔ ہم نے ایسی ماؤں سے بھی ملاقات کی ہے جو اب بھی اپنے بیٹوں کو تلاش کر رہی ہیں، جو میدانِ جنگ سے واپس نہیں آئے۔ اکثر وہ اس امید سے جڑی رہتی ہیں کہ ان کے بیٹے جنگی قیدی ہیں اور روس میں کہیں قید ہیں، اگرچہ ان کے نام کسی سرکاری فہرست میں شامل نہیں۔ ریڈ کراس جیسی تنظیموں کو روسی جیلوں تک رسائی نہایت محدود ہے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ لاپتہ افراد مارے جا چکے ہیں اور ان کی لاشیں روس کے زیرِ قبضہ علاقوں سے برآمد نہیں ہو سکیں، یا پھر ان کی باقیات ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت نہیں ہو پائیں۔ وقتاً فوقتاً دونوں ممالک لاشوں کا تبادلہ کرتے ہیں، قیدیوں کے تبادلے کے علاوہ، لیکن گذشتہ اگست کے بعد سے ایسا کوئی تبادلہ نہیں ہوا۔ سٹیو وٹکوف نے اعلان کیا کہ ابوظہبی مذاکرات میں ایک اور قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس میں 314 قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔ ’پانچ ماہ میں پہلا ایسا تبادلہ‘ ہوا۔ سٹیو وٹکوف نے مزید کہا کہ ’اگرچہ ابھی کافی کام باقی ہے، لیکن ایسے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ مسلسل سفارتی کوششیں ٹھوس نتائج دے رہی ہیں اور یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو آگے بڑھا رہی ہیں۔‘ یہ مذاکرات ایسے وقت شروع ہوئے جب روس نے ایک ہفتے کے وقفے کے بعد یوکرین پر دوبارہ حملے کیے۔ یہ وقفہ ٹرمپ کی درخواست پر ولادیمیر پوتن نے رکھا تھا، جب یوکرین میں شدید سردی کا راج تھا۔ روس نے یوکرین کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بجلی اور حرارت سے محروم ہو گئے جبکہ درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ